تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 292 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 292

استاذی المکرم جناب مولانا سید سرور شاہ صاحب فاضل اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا مباحثہ ہوا جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے بہت کچھ لاف و گزاف کے علاوہ پیشگوئیوں کی سخت تکذیب کی۔۲ نومبر کو حضرت مولانا موصوف قادیان واپس آئے اور مباحثہ کے حالات سنائے۔حضرت اقدس کو مولوی ثناء اللہ کی دیدہ دلیری پر بہت تعجب ہوا۔آخرے /نومبر کو آپ کو خیال آیا کہ:- ”خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے روح القدس سے مجھے تائید فرمائے جس میں مباحثہ مذ کا ذکر ہو ، تا اس بات کے سمجھنے کے لئے دقت نہ ہو کہ وہ قصیدہ کتنے دن میں تیار کیا گیا ہے۔سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہو گئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں میں نے ختم کر لیا۔کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جاتا۔کاش اگر چھپنے میں کسی قدر دیر لگتی تو ۹ نومبر ۱۹۰۲ بر تک وہ قصیدہ شائع ہوسکتا تھا۔یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ اُن کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا اور مباحثہ ۲۹-۳۰/اکتوبر ۱۹۰۲ ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ۸ /نومبر ۱۹۰۲ بو کو اس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیا اور ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ ء کو مع اس اُردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔چونکہ میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لاجواب کرے اسلئے میں اس نشان کو دس ہزار روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔“ ( اعجاز احمدی صفحه ۳۶) پھر حضور نے مخالفین کو مثل لانے کے لئے چیلنج دیتے ہوئے مدت کی تعمیین بایں الفاظ فرمائی :- انشاء اللہ ۱۶ نومبر ۱۹۰۲ ء کی صبح کو میں یہ رسالہ اعجاز احمدی مولوی ثناء اللہ (292)