تفہیماتِ ربانیّہ — Page 260
طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ ایسا تالاب انہیں کے مسلمات میں داخل ہے۔لیکن اگر یہ صورت واقعیہ بھی ہو تب بھی خرق عادت میں شبہ نہیں۔کیونکہ اس تالاب کی مٹی میں یہ تاثیر اور اس کا حضرت مسیح کو علم اور مہیا ہو جانا یقینا خرق عادت ہے۔لہذ ا معترض پیٹیالوی کا اعتراض باطل ہے۔خلاصه کلام ہم نے ضرورت کے ماتحت اس نمبر پر طویل بحث کی ہے کیونکہ اس کا ذکر اس کتاب میں کئی جگہ ہے نیز عام طور پر لوگ اس کو پیش کیا کرتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح کے معجزہ خلق الطیور کو قرآنی الفاظ میں تسلیم کرنے کے بعد حسب حدیث، لِكُلِّ آيَةٍ ظَهْرُ وَبَطْن ، اس کی دو تشریکیں فرمائی ہیں۔(۱) ظاہری۔جو او پر مذکور ہوئی۔اور جس کا ماحصل یہی ہے کہ بے شک وہ پرندے بن گئے تھے مگر حقیقی نہ تھے۔بلکہ یا تو عمل الترب کا نتیجہ تھے یا پھر کسی گل وغیرہ کی وجہ سے تھے جس کی حضرت مسیح کو منجانب اللہ تعلیم کی گئی تھی۔(۲) باطنی۔اس تشریح میں آپ نے تحریر فرمایا ہے :- چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اسلئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اقی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسی نے اپنا رفیق بنایا۔گویا اپنی صحبت میں لیکر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“ (ازالہ اوہام طبع سوم صفحه ۱۲۵ - ۱۲۶) گویا دونوں تشریحات ہوسکتی ہیں۔ظاہر کی بھی اور باطنی بھی۔مگر جیسا کہ واضح ہے ظاہری تشریح ایک خفیف امر ہوگا جو پائیدار نہیں ہوگا۔لیکن باطنی تشریح ایک مستقل اور اہم صورت ہے اور انبیاء کے عین شایانِ شان۔آیات قرآنیہ کی متعدد تفاسیر کرنا تمام اہل علم کا طریق ہے کیونکہ قرآن مجید جوامع الکلم ہے۔ناظرین! ہم نے تمام حقیقت مکمل طور پر آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔نہ اس میں کوئی حق اختلاف بیانی ہے نہ کلام متناقض لیکن منشی صاحب ہیں کہ اس کو اپنی مزعومہ اختلاف بیانیوں“ کے نویں نمبر پر ذکر کر رہے ہیں۔لے اس معنی میں حضرت نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۰ پر اس قسم کے پرندوں کا وجود ایک خفیف امر بیان فرمایا ہے۔منہ (260)