تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 253 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 253

کہ صرف ایک اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے ، وہی قہار ہے۔اُس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اُس کے لئے ایک اندازہ مقرر فرمایا۔کیا (اے مشرکو!) خدا کے سوا بھی کوئی خالق ہے؟ یعنی ہر گز نہیں۔ایسی ہی بیبیوں آیات شمشیر برہنہ کی طرح اس شرک آلود خیال کو پارہ پارہ کر رہی ہیں کہ حضرت مسیح نے فی الواقع پرندے پیدا کئے اور وہ حقیقی پرندے تھے۔مفترین اور حضرت مسیح کے پرندے اس حقیقت باہرہ کی موجودگی میں کون متدین انسان اس امر کا مدعی ہوسکتا ہے کہ فی الواقع حضرت مسیح حقیقی معنوں میں سچ سچ کے پرندوں کے خالق تھے؟ یہی وجہ ہے کہ جملہ مفسرین کا یہی خیال ہے کہ حضرت مسیح کے مخترعہ پرندے صرف ناظرین کی نظروں تک پرواز کرتے تھے اور اوجھل ہوتے ہی مرکز پیوند خاک ہو جاتے تھے۔اگر چہ مفسرین میں عام طور پر عجوبہ پسندی کا جذ بہ غالب نظر آتا ہے مگر اس جگہ وہ بھی انتہائی مبالغہ سے رُکنے پر مجبور ہوئے ہیں۔(۱) علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں :- خلَقَ لَهُمُ الْخَفَّاشَ لِأَنَّهُ أَكْمَلُ الطَّيْرِ خَلْقاً فَكَانَ يَطِيرُ وَهُمْ يَنْظُرُونَهُ فَإِذَا غَابَ عَنْ أَعْيُنِهِمْ سَقَطَ مَيْتًا ( جلالی مطبع مجتبائی صفحہ ۴۹) (۲) امام وہب کا قول ہے :- "كَانَ يَطِيرُ مَادَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَإِذَا غَابَ عَنْ أَعْيُنِهِمْ سَقَطَ مَيْتًا۔(تفسیر نیشاپوری بر حاشیہ ابن جریر جلد ۳ صفحه ۱۹۵) (۳) علامہ ابن حیان فرماتے ہیں :- " تَوَاطَأَ النَّقْلُ عَنِ الْمُفْسِرِينَ آنَ الطَّائِرَ الَّذِي خَلَقَهُ عِيسَى كَانَ يَطِيرُ مَا دَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَإِذَا غَابَ عَنْ أَعْيُنِهِمْ سَقَطَ مَيْتًا “ ( البحر المحيط جلد ۲ صفحه ۴۶۶) گویا سب مفتر یہی تاویل کرتے ہیں کہ وہ مصنوعی پرندہ لوگوں کے سامنے ان کی نظر کی حد تک ہی اُڑتا تھا اس کے بعد گر کر مر جاتا تھا۔کیا ہمارے منصف بھائیوں کے لئے اس میں سبق نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ مفترین کو خلق الطیور کی یہ تاویل کرنی پڑی۔کیوں انہوں (253