تفہیماتِ ربانیّہ — Page 250
نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح بن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اُس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے، اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اُس سے کم نہ رکھے۔میں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے اُن لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ہے۔مگر میں ان کی پروا نہیں کرتا۔میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی ہے تاریکی میں آسکتا ہوں۔خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔میں تو خدا تعالے کی وحی کی پیروی کر نیوالا ہوں۔جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔اور جب مجھے کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے۔جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان پھٹ جائیں۔پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح بن مریم سے بڑھ کر ہیں۔جس شخص کو اس فقرہ سے غیظ و غضب ہو اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مرجائے۔مگر خدا نے جو چاہا کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا ؟ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۹-۱۵۰) حضرات ناظرین ! برائے خدا انصافاً بتائیں کہ کیا اس وضاحت کے بعد ان بیانات کو اختلاف بیانی کی مثال میں پیش کرنا دیانتداری کا تقاضا تھا؟ حضرت (250)