تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 249 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 249

ہے ! کلام متناقض آپ کریں اور اس کا جواب دہ ہو خدا تعالیٰ۔خدا تعالیٰ نے تو فرما دیا ہے کہ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ (عشره صفحه (۶) 66 -: الجواب۔سب سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ معترض نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰ کے ، فقرہ ” خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھنے سے بالکل غلط استدلال کیا ہے کہ حضور نے اس میں مسیح سے برابری کا دعویٰ کیا ہے۔معترض پیٹیالوی کو یہ دجل اس لئے اختیار کرنا پڑا تا وہ عوام کو یہ بتادے کہ پہلے مسیح کے برابر ہوئے، نجوئی فضیلت کا دعوی کیا اور آخر گلی فضیلت کا ادعا کر دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا فقرہ کا مطلب دعوی مساوات نہیں بلکہ اس جگہ تو ذکر ہی فضیلت تامہ کا ہے۔ظاہر ہے کہ کم نہ رکھنے کے دو مطلب ہو سکتے تھے۔برابر کر دیا ، افضل بنادیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی اس عبارت میں کم نہ رکھنے سے کیا مراد ہے سو اس کے لئے اس صفحہ کا یہ فقرہ نہایت واضح تشریح ہے کہ خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنی خادم اسرائیلی مسیح بن مریم سے بڑھ کر ہیں۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰) پس یہ بات تو حل ہو گئی کہ مسیح سے فضیلت و عدم فضیلت ہی ما بہ النزاع ٹھہر سکتی ہے مساوات والی تیسری صورت یہاں موجود نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دو ہی زمانے آئے ہیں۔اول جب آپ حضرت مسیح کو بوجہ ان کی نبوت کے اپنے سے افضل سمجھتے تھے اور اپنے نفس کو محض جو کی فضیلت دیتے تھے۔دوم جب آپ نے اللہ تعالے کی واضح تصریح کے مطابق اپنی نبوت کا کھلا اعلان فرمایا اور اپنے آپ کو مسیح پر کی فضیلت دی۔پس اب صرف جزئی فضیلت اور کلی فضیلت کا سوال باقی ہے ہم اس سوال پر نبوت کے دعوی کے ضمن میں مختصر بحث کر چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے :- اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس (249)