تفہیماتِ ربانیّہ — Page 220
مثال کے طور پر یوں سمجھ سکتے ہو کہ غیب کی خبریں پانا بی۔اے کا ڈپلومہ ہے۔میں کہتا ہوں کہ جس کے پاس یہ ڈپلومہ ہو اس کا کیا نام رکھا جائے گا ؟ اگر کہو کہ اسے ایف اے کہنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ یونیورسٹی کے کس قانون کے ماتحت ایف اے پاس طالب علم کے پاس یہ ڈپلومہ ہوتا ہے۔اس عبارت کا یہ مطلب ہر گز نہیں لیا جائے گا کہ وہ ڈپلومہ والا طالب ایف اے پاس نہیں۔بلکہ یہ کہ ایف اے پاس بھی ہے اور بی اے بھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متذکرہ صدر عبارت کا مطلب صاف ہے کہ آپ نبی بھی ہیں اور محدث بھی۔فبطل ما كانوا يأفكون الجواب الثالث - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر یکجائی نظر کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ حضور کا دعوی براہین احمدیہ کے زمانہ سے لیکر یوم وصال تک یہی رہا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے بکثرت مکالمہ ومخاطبہ کرتا ہے ، وہ مجھ پر غیب کی خبریں ظاہر فرماتا ہے، اور اپنے الہام میں میرا نام نبی رکھتا ہے۔ان امور ثلاثہ کے مجموعہ کو آپ اوائل میں محدثیت کے نام سے موسوم کرتے تھے۔کیونکہ اس وقت تک ، آپ کے نزدیک بھی دوسرے لوگوں کی طرح ، نبی کے لئے جدید شریعت لانا یا مستقل ہونا ضروری تھا۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمّت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔( الحکم جلد ۳ نمبر ۲۹ ۱۸۹۹ء) لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر واضح کر دیا کہ نبی کے لئے شریعت کا لانا یا مستقل ہونا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی نہ ہونا شرط نہیں تو آپ نے صاف فرما دیا کہ :- (الف) ”نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرق ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا مشبع نہ ہو۔“ (ضمیمہ براہین احمد حصہ پنجم صفحه ۱۳۸) (220)