تفہیماتِ ربانیّہ — Page 219
دگر استادرانا می ندانم که خواندم در دبستان محمد (در ثمین فارسی) خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت اقدس نے خود اس کی تطبیق نہایت واضح اور بین طور پر تحریر فرما دی ہے۔اب اس کے لئے ” میرزائی صاحبان کو چیلنج دینا کمال ڈھٹائی ہے سچ ہے اذالم تستحی فاصنع ما شئت - الجواب الثانی معترض پٹیالوی نے حوالہ حج سے یہ استدلال کیا ہے کہ ” نبوت کا دعوئی ہے اور محدثیت سے انکار اور پھر اسی پر مطابق ” بناء الفاسد علی الفاسد “ لکھا ہے پس بقول خود نہ آپ محدث ہیں نہ نبی۔“ ہمارا دعویٰ ہے کہ حوالہ ج کا وہ مفاد ہی نہیں جو معترض نے لکھا ہے لہذا اس پر نہ آپ محدث ہیں نہ نبی کی فرع قائم کرنا خود بخود باطل ہو گیا۔حوالہ مذکور معترض کے الفاظ میں ہی یوں ہے۔فرمایا :- اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی لغت کی کسی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“ کیا اس عبارت کا یہ منشاء ہے کہ جو نبی ہو وہ محدث نہیں ہوتا ؟ ہرگز نہیں۔بلکہ اس کا تو صرف یہ مطلب ہے کہ خدا سے غیب کی خبریں پانے والے کا نام صرف محدث نہیں رکھ سکتے۔بلکہ ضروری ہو گا کہ تم اس کا نام نبی رکھو۔چنانچہ اسی رسالہ میں حضور رقمطراز ہیں :- یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنے لغت کے رُو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔‘ (صفحہ ۵) گویا خدا سے غیب کی خبریں پانے والے کا نام نبی رکھنے میں تنازع ہے اور حضرت اقدس اس کے لئے ثبوت دیتے ہوئے اس مفہوم کو محدثیت کے دائرہ سے بالا ثابت کر رہے ہیں نہ کہ اپنی محدثیت کا انکار فرمارہے ہیں۔کیا کوئی ایک بھی ایسا مقام ہے جس میں لکھا ہو کہ میں محدث نہیں ہوں۔یہ تو صرف نبوت کی تعریف کو محدثیت سے ممتاز کیا گیا ہے ویس۔(219)