تفہیماتِ ربانیّہ — Page 218
الجواب الاول - اے معترض پٹیالوی ! اگر تجھ میں ذرہ بھر بھی دیانت موجود ہے تو بتلا کہ کیا تجھے رسالہ ایک غلطی کا ازالہ میں مندرجہ ذیل عبارت نہیں ملی؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دعوی نبوت کے اقرار اور انکار میں خود تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں :۔جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے ، اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔“ ایک غلطی کا ازالہ طبع سوم صفحہ ۸) گویا مستقل اور شریعت والی نبوت کا انکار ہے اور ظلی اور غیر تشریعی نبوت کا اقرار ہے لہذا کوئی اختلاف ، تضاد یا تناقض نہیں۔لولا الاعتبارات لبطلت الحكمة ـ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص کہے میں نے ایم۔اے پرائیویٹ طور پر پاس نہیں کیا، لیکن گورنمنٹ کالج میں تعلیم پا کر پاس کیا ہے۔کیا ان دونوں میں اختلاف ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ جس حیثیت کی نفی ہے اس کا اثبات نہیں۔اور جس پہلو کا ادعاء ہے اس کا انکار نہیں۔دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔زید باپ ہے اپنے بیٹے خالد کا اور زید باپ نہیں عمرو کے بیٹے بکر کا۔کیا یہ متناقض بیانات ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں :۔اب بجز محمد کی نبوت کے سب نیو تیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔(تجلیات الہی صفحہ ۲۵) اپنے متعلق فرمایا ے (218)