تفہیماتِ ربانیّہ — Page 198
الجحیم ‘ (آگ) میں ڈالا تب خدا نے فرمایا یا نَارُ كُونِي بَرْداً وَسَلَاماً عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبیاء ع ۵) کہ اے آگ ہمارے بندے ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا۔پس وہ ٹھنڈی ہوگئی۔غرض یہ الہام بھی ہرگز ہرگز خلاف شریعت نہیں۔بالآخر معترض نے لکھا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو تو قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کا الہام ہو ا تھا لیکن اسے یادر ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو بھی قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کا الہام ہوا ہے۔( دافع البلاء صفحہ ۷) باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ، خَاتَمَ النَّبِينِ ، مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وغیرہ آیات بھی الہام ہوئی تھیں۔افتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ؟ (۹) رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ عَيْنَ اللهِ اس نمبر میں معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ عَيْنَ الله (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۴) کو دوبارہ پیش کر دیا ہے۔ہم اس کشف کے متعلق فصل دوم میں مفصل بحث کر چکے ہیں اب تکرار کی ضرورت نہیں۔ہاں اس جگہ اس کشف کی بناء پر معترض پٹیالوی نے ایک نیا سوال کیا ہے۔اس کا جواب از بس ضروری ہے وہ سوال یہ ہے :- فرعون نے بھی تو آنَا رَبُّكُمُ الا علی ہی کہا تھا جس کی وجہ سے کافر اور مردود ہوا۔پھر مرزا صاحب اور فرعون میں کیا فرق ہے؟ (عشرہ صفحہ ۵۰) الجواب۔اگر چہ ایسے لوگوں کے متعلق سعدی مرحوم کا تو یہی قول ہے کہ بھی اینست جوابش که جوابش ندہی مگر محض اسلئے کہ وہ کہیں اسی بناء پر اپنے مطالبہ کو ملا جواب قرار نہ دے لیں ذیل میں اس کا بالاختصار جواب لکھا جاتا ہے۔یادر ہے کہ فرعون اللہ تعالٰی کا منکر اور اپنی الوہیت کا مدعی تھا۔رَبُّكُمُ الاعلی میں اسم تفضیل دوسرے بچوں وغیرہ کے لحاظ سے ہے۔اس لفظ سے اس کو اللہ تعالیٰ کا قائل سمجھنے والے آیت ذیل پر غور کریں :- وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَأَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ الهِ غَيْرِى، فَأَوْقِد لي يـهـا مـن عـلـى الـطـينِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَعَلَى أَلِعُ 198