تفہیماتِ ربانیّہ — Page 187
یعنی تمام زمین و آسمان اس کی اطاعت کر رہی ہے۔جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے۔(کشتی نوح صفحہ ۳۵) ہم نے او پر حقیقۃ الوحی سے مسلسل الہامات درج کئے ہیں ان سے جہاں پر یہ ظاہر ہے کہ إِنَّمَا أَمْرُك میں اللہ تعالیٰ ہی مخاطب ہے وہاں پر إِنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِر وغیرہ سے یہ بھی عیاں ہے کہ آپ اپنی مغلوبیت اور کمزوری کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے ہی نصرت چاہتے ہیں۔یعنی تصرفات کلیۃ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔وھو المراد - بالآخر ہم یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا ہی ضدی ہے کہ ان تمام تشریحات کے باوجود بھی اصرار کرتا ہے کہ انما أمرك والے الہام میں حضرت مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے مجاز اختیارات کن فیکون دیئے ہیں تو اسے یادر ہے کہ پھر بھی تم اس کو خلاف شریعت نہیں کہہ سکتے کیونکہ امت مسلمہ کے بہت بڑے بزرگ اور اسرار شریعت کے واقف حضرت سید عبد القادر جیلانی ” نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء اور اولیاء کو مجازاً اختيارات كن فيكون دیئے ہیں۔اور ہر مطیع بندہ کو وہ اب بھی دیتا ہے۔چنانچہ شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی، فارسی ترجمہ میں لکھتے ہیں :- اے فرزند آدم منم خدا، نیست ، پیچ خدائے مگر من، میگویم مر چیزی را کہ میخواهم که پیدا کنم آنرا پیدا شو، پس پیدا می شود آن چیز۔فرمانبرداری کن مرا تا بگردانم ترا بایں صفت که بگوئی مر چیزی را شو پس مے شود آن چیز ، زیرا کہ تو چوں اطاعت من کنی و بتمام تابع امرونهی شوی ، وفانی شوی از خود، و باقی گردی به من، ظاہر گردد انوار قدرت من در تو ، و پیدا گردد آثار آن از تو ( فتوح الغیب مقاله ۱۳ صفحه ۸۷) اب اگر حضرت مرزا صاحب کی مخالفت ہی منظور ہے تو آؤ حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی " پر بھی فتویٰ لگاؤ۔ورنہ صاف ظاہر ہے کہ تمہارا اعتراض باطل ہے اور حضرت مرزا صاحب کا وہی مسلک ہے جو پہلے اولیاء اور صلحاء کا تھا اور تم وہ راستہ اختیار کر رہے ہو جو پہلے مکذبین اور حق سے بیگانہ لوگ اختیار کرتے رہے۔نِعْمَ 187)