تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 157 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 157

صدا آنَا الْحَقُّ اور سُبْحَانِى مَا أَعْظَمَ شَانِي وَغَيْرَه ذَالِكَ سالك سے کبھی سرزد ہوتی ہے۔“ (مقدمہ صفحہ ۳۱) (ب) اس آیت ( إِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَ يَحُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ) سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عین اللہ کے تھے اور صحابہ کرام وقت اُس بیعت کے مشاہد حق تعالیٰ کے تھے بیچ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، کہ مظہر اکمل اس کے ہیں۔پھر تا کید فرمائی اللہ تعالیٰ نے اس معنے کی اور کہا کہ ہاتھ اللہ کا او پر ہاتھ صحابہ مبایعین کے ہے اور اس جگہ نہ تھا کچھ مگر ہاتھ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُو پر ہاتھ مبایعین کے۔پس اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عین اللہ ہیں مشاہدے میں صحابہ مبایعین کے، اور ہاتھ رسول اللہ صلعم کا ہاتھ اللہ کا ہے اس مشاہدے میں۔(مقدمہ صفحہ ۲۳ - ۲۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الزام لگانے والے اس حوالہ کو پڑھیں اور دیکھیں کہ کیا حضرت مسیح موعود نے کبھی اور کہیں بھی اسلامی شریعت کی خلاف ورزی کی ہے؟ یہ سوال الگ ہے کہ اہل ظاہر کو گوچہ باطن میں تاریکی ہی تاریکی نظر آئے ہے اہل ظاہر نہ کریں کوچہ باطن کی تلاش کچھ نہ پائیں گے یہاں رنج و مصیبت کے سوا افسوس کہ تاریکی کے فرزند اپنی کو چشمی کے ماتحت پارسا لوگوں پر زبان طعن دراز کرتے رہے۔سچ ہے عَ النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا (۲) دعوی کرشن معترض پٹیالوی نے اس فصل کے دوسرے نمبر میں ہمارے حضرت پر یہ الزام قائم کیا ہے کہ آپ نے اپنے مطبوعہ رسالہ ”لیکچر سیالکوٹ میں کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے لہذا آپ ”اسلام اور اسکی کامل تعلیم پر ایمان نہیں رکھتے تھے چنانچہ مکذب کے الفاظ حسب ذیل ہیں :۔کرشن جی مہاراج ہندوؤں کے اعتقاد میں پرمیشور کا اوتار بھت۔چنانچہ ان کو کرشن بھگوان کہا جاتا ہے۔(اگر بھگوان کا لفظ ہی اُلوہیت کی دلیل ہے تو کیا وید بھگوان، گور وبھگوان وغیرہ سے ویدوں وغیرہ کا 157