تفہیماتِ ربانیّہ — Page 138
هُنَّ اُمُّ الْكِتَبِ وَأُخَرُ مُتَشَبه نت : - الآية ( آل عمران رکوع ۱) یعنی اللہ نے ہی تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ایک حصہ محکمات کا ہے جو اصل کتاب ہیں اور باقی متشابہات ہیں۔“ ہمارا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں محکمات بھی ہیں اور متشابہات بھی۔جس طرح قرآن مجید کی متشابہات پر دشمن اعتراض کرتا ہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے متشابہات پر معترض پٹیالوی اور اُس کے ہمنوا معترض ہوتے ہیں۔محکمات ہر دو جگہ اعتراض کے دائرہ سے باہر قرار دیئے جاتے ہیں۔دیکھئے قرآن مجید ایسے پاک کلام کے متعلق نا پاک پنڈت دیانند آریہ کیا رائے رکھتا ہے :- یہ قرآن خدا کا بنایا ہوا نہیں ہے۔کسی مگار فریبی کا بنایا ہوا ہوگا نہیں تو ایسی فضول باتیں کیوں لکھی ہوتیں۔“ ہمارا قلم ان لفظوں کو لکھتے ہوئے کانپتا ہے مگر کیا کریں صداقت کے دشمن ہمیشہ سے ایک ہی لائن پر چلتے رہے ہیں۔أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُون۔ہاں اسکے بالمقابل خدا کے ایک پارسا بندے حضرت امام غزالی کے مندرجہ ذیل الفاظ بھی پڑھئے متشابہات کے سلسلہ میں فرماتے ہیں :- قرآن مجید کے سب معانی سمجھنے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔۔۔مقطعات قرآنی ایسے حروف یا الفاظ جو اہل عرب کی اصطلاح میں کسی معنی کے لئے موضوع نہیں۔“ علم الکلام صفحہ ۵۶) سه ناظرین کرام ! اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کیا مکذب پٹیالوی نے حضرت غزالی کے طریق کو اختیار کیا یا پنڈت دیا نند کے نقش قدم کی پیروی کی ہے؟ حضرت شاہ ولی اللہ کا ارشاد جن چند متشابہ الہامات کو معترض نے گول مول قرار دے کر ہنسی اڑائی ہے ان کے تفصیلی جواب سے پہلے میں بتادیتا ہوں کہ یا تو ان پر اس نے اس لئے اعتراض کیا ہے کہ ان کے شان نزول کو عمد انظر انداز کر دیا ہے یا پھر اس لئے کہ ان کی مستقل شان کو له علم الكلام اُردوترجمة الاقتصاد في الاعتقاد کا ہے اور ۱۹۱۳ء میں خادم التعلیم سٹیم پریس لاہور میں طبع ہوا ہے۔مؤلف (138)