تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 130 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 130

مشروط تھا۔لیکن جب ان لوگوں نے رجوع اور خوف سے عاجزانہ خطوط لکھے تو ان کی موت کو مؤخر کر دیا گیا اور نکاح بوجہ نہ متحقق ہونے شرط ہلاکت کے واقع نہ ہوا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود فرمایا ہے : تُوبِ تُوبِي فَإِنَّ الْبَلَاء عَلَى عَقِبِكِ آ گیا ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ تو بہ سے یہ سب باتیں ٹل جائیں گی اور احمد بیگ کی موت سے جو خوف اُن پر چھا گیا اُس نے پیشگوئی کے ایک حصہ کو ٹال دیا ہے۔“ ( بدر ۱۹۰۸ به صفحه ۴) غرض جن بعض خواتین کا وعدہ تھا وہ مشروط تھا۔اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوطُ - فَلَا إِشْكَالَ۔دوسری تشریح:- پہلی تشریح کو مانتے ہوئے واقعات کی روشنی میں خواتین مبارکہ کے آنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادوں کی بیویاں مراد ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ بشارت دی کہ میں تجھے صالح اور پاکیزہ اولاد دوں گا ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ ان لڑکوں کی بیویاں بھی الطیبات لِلطَّيِّبين کے ماتحت خواتین مبارکہ ہوں گی اور خدا تعالیٰ اس نسل کو دُور تک پھیلائے گا۔وقد ظهر صدق هذا النبأ۔الہام نو دن کا بخار ٹوٹ گیا“ پر اعتراض کا جواب (۹) تو دن کا بخار ٹوٹ گیا معترض پیٹیالوی لکھتا ہے :۔ڈائری ۲۷ اگست ۱۹۰۷ ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بے ہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اُن کی نسبت آج الہام ہو ا قبول ہوگئی۔نو دن کا بخار ٹوٹ گیا یعنی دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفا دیوے۔“ ( میگزین ستمبر ۱۹۰۷ء) کی لڑ کا۱۶ ستمبر کو صبح کے وقت فوت ہو گیا اسلئے صحت کا الہام غلط ہوا۔‘ (عشرہ صفحہ ۴۲) الجواب - الہام کے الفاظ میں نو دن کے بخار ٹوٹنے کا ذکر ہے۔چنانچہ مورخہ ۳۰ اگست ۱۹۰۷ء کو بخار بالکل ٹوٹ گیا اور صاحبزادہ موصوف سیر کرنے باغ چلے گئے۔(ملاحظہ ہو اخبار (130)