تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 122 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 122

پر آجاتے ہیں مگر کیا مستقل دفاتر بھی سخت سردی سے ڈر کر میدانوں میں آ جاتے ہیں؟ کیا اس واقفیت پر اس قدر شیخی ؟ نیز یہ بھی تو یادر ہے کہ جنوری ۱۹۰۶ بر تک تو انتہائے غایت ہے جس کا آغاز اپریل ۱۹۰۵ به سے ہے سارا عرصہ مراد ہے جس میں سارا موسم گرما شامل ہے۔فلا اعتراض (۳) دشمن کی ہلاکت تیسرے نمبر پر معترض نے الہام ” میرا دشمن ہلاک ہو گیا “ (الہام ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ء) پیش کیا ہے اور پھر لکھا ہے کہ :۔یہ بھی بالکل غلط نکلا کیونکہ ان ایام میں مرزا جی کے بڑے دشمن ڈاکٹر عبد الحکیم خان اور مولوی ثناء اللہ صاحبان تھے۔(عشرہ صفحہ ۴۰) گویا ان دو میں سے کسی ایک کے نہ مرنے کے باعث الہام غلط قرار پایا۔ع بر این عقل و دانش ببایدگر بست کیا مرز اصاحب کے صرف یہی دشمن تھے؟ اے دشمن صداقت دیکھ اور پڑھ۔حضرت فرماتے ہیں :۔یہ عظیم الشان پیشگوئی بھی جس میں پیش از وقت بتلایا گیا تھا کہ بابو الہی بخش صاحب طاعون سے فوت ہوں گے (تفصیل کے لئے دیکھو تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۵) مندرجہ بالا الہام ۲۸ / مارچ کو ہوتا ہے جس میں بطور پیشگوئی بتلایا گیا تھا کہ عنقریب وہ دشمن ہلاک ہو جائے گا۔کیونکہ پیشگوئیوں میں عادت اللہ اسی طرح ہے کہ ہونے والی بات کو ماضی کے صیغہ میں ذکر کیا جاتا ہے۔مثلاً قرآن مجید میں ہے وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَارْضًا لَمْ تَطُوهَا ( احزاب ركوع (۳) ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّلَّهُ وَالْمَسْكَنَةُ (بقره رکوع ) کس قدر چمکتا ہوا نشان ہے کہ ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ ء کو الہام ہوتا ہے اور ے ا پریل ۱۹۷ء کو الہی بخش جو اپنے آپ کو موسیٰ قرار دیتا تھا طاعون سے ہلاک ہو جاتا ہے۔(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ (۱۴۲) ان فی ذالك لعبرة لاولی الابصار - ریاست کابل میں پچاسی ہزار آدمیوں کی موت (۴) ریاست کابل میں 122)