تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 110 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 110

پنجابی میں ضرب المثل ہے ' خواجہ دا گواہ ڈڈو۔ناظرین کرام ! ہم معترض پٹیالوی سے کیا کہیں جو قاضی لدھیانوی کی کئے چاٹ کر شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ہاں منصف مزاج پبلک کی آگاہی کے لئے لکھتے ہیں کہ ۱۹۱۸ء میں قاضی مذکور اور اُس کی اس کتاب کے متعلق مجسٹریٹ درجه اول لدھیانہ نے حسب ذیل ریمارکس کئے جن کو بعد اپیل بھی قائم رکھا گیا :- " جو الزامات مستغیث ( فضل احمد لدھیانوی) نے اپنی کتاب ”کلمہ میں مرزا غلام احمد قادیانی پر لگائے ہیں وہ جھوٹے اور توڑے مروڑے ہوئے ہیں۔“ حقیقت امر یہ ہے کہ مستغیث (فضل احمد لدھیانوی) علوم دینی میں نیم تعلیمیافتہ آدمی ہے اور اس کا علم عربی بہت ہی نامکمل اور سطحی ہے جیسا کہ ڈیفنس کی پیش کردہ عبارت پر اس کے اعراب لگانے کی کوشش سے ظاہر ہوا ہے۔اس میں بے شمار غلطیاں ہیں۔جیسا کہ ضرب المثل میں نیم حکیم کو خطرہ جان کہا گیا ہے مستغیث (جو کہ نیم ملاں ہے ) خطرہ ایمان ہے۔“ ( فیصلہ مجسٹریٹ درجہ اوّل لدھیانہ مؤرخہ ۲۱ جنوری ۱۹۱۸ منقول از رساله تردید کتاب " کلمه فضل رحمانی) اب انصاف آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کیا ایسے شخص کی روایت اور ایسی کتاب کی سند پر اعتراض درست ہو سکتا ہے اور جبکہ وہ روایت بھی بلا ثبوت ہو؟ الجواب - (۲) بفرض محال اگر اس وضعی روایت کو تسلیم بھی کرلیں تب بھی کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کا صاف منشاء یہ ہے کہ ”غلام احمد قادیانی یعنی ایسا شخص جو قادیان کی نسبت کے ساتھ مشہور ہو کوئی نہیں۔اگر تم دنیا کے کسی بھی کونے میں غلام احمد قادیانی کا نام لو گے تو اس سے مشخص طور پر صرف ایک ہی وجود باجود مراد ہوگا اور وہ حضرت مسیح موعود کا ہے۔معترض پٹیالوی نے اپنے پیش کردہ نام کو غلام احمد قریشی لکھ کر ہمارے بیان کو اور بھی پختہ کر دیا ہے۔غرض اول تو بیان ہی پایۂ اعتبار سے گرا ہوا ہے لیکن اگر اسے درست بھی مان لیا جاوے تب بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ دعوی میں قطعاً قادح نہیں۔(110)