تفہیماتِ ربانیّہ — Page 106
(۳) اس کشف میں درج ہے کہ صاحب قبر بزرگ نے بار بار آمین کہنے سے انکار کیا۔آخر الامر محض احترام کے طور پر اُس نے آمین کہدی۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ دُعا اُس رنگ میں نہیں جس میں معترض نے اسے ذکر کیا ہے۔ناظرین کرام ! مندرجہ بالا اقتباس میں معترض پٹیالوی نے فقرہ " اب میری عمر پچانوے سال ہے“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے اور الحکم کے حوالہ سے منسوب کیا ہے یہ اس کا کھلا کھلا جھوٹ اور افتراء ہے۔اگر وہ یہ فقرہ حضور کی تحریر سے دکھاوے تو اس کو یکصد روپیہ انعام دیا جائے گا۔اگر نہ دکھا سکے ، اور ہرگز نہیں دکھا سکتا تو لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کا طوق ہی اس کے گلے کے لئے بس ہے۔معترض نے تنول على كل اقاكٍ " کا مصداق پیغمبر قادیان کو قرار دیا تھا۔( خاکش بدہن ) مگر خدا کے قہری وعید إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَانَتَك نے اس کو مصداق بنا دیا ھے << میں الزام ان کو دیتا تھا قصورا اپنا نکل آیا امردوم معترض لکھتا ہے :- مولوی مردان علی حیدر آبادی نے مرزا صاحب کو خط لکھا کہ ۵ سال میں اپنی عمر میں سے کاٹ کر آپ کو دیتا ہوں۔مرزا صاحب نے قبول کیا۔“ (ازالہ اوہام) اسلئے مرزا صاحب کی عمر پوری سوسال ہونی لازمی تھی۔“ ( حاشیہ عشرہ صفحہ ۳۷) الجواب - (۱) - مولوی مردان علی صاحب کے اس اظہار سے ان کے اخلاص اور ایثار کا ضرور پتہ لگتا ہے مگر کیا کسی کے اپنی عمر دینے سے دوسرے کو وہ عمر مل جاتی ہے؟ اے نادان معترض ! ئن ! اگر یہ طریق ممکن ہوتا تو سب مومن اپنی زندگیاں انبیاء کو دے دیتے اور وہ ابد الد ہر زندہ رہتے۔کیا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رسول پاک سے نہ کہا تھا فَدَيْنَاكَ بِأَبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا (مشکوۃ باب وفات النبی) کہ ہم اپنے والدین کو آپ پر قربان کرتے ہیں۔یہ مومنین کا اخلاص ہوتا ہے اس سے عمر کی زیادتی کا مطالبہ کرنا سراسر حماقت ہے۔(۲) اگر معترض کا استدلال درست ہوتا تو حضرت مرزا صاحب کسی ایک موقعہ 106