اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 7

تدريس نماز خدا تعالیٰ نے ملین ، پلین سال، بہت پہلے ڈائنا سور کو پیدا کیا۔زمین بھر گئی اور سمجھ نہیں آتی تھی۔اگر دیکھتے اور ساری دنیا پر ڈائناسور تھے بڑے بڑے جیسے G Park سارے کھا رہے ہیں۔اور پھر کوئی ایسی ہوا بدلی سمندر پر اوپر سے بارش ہوئی ، اجرام فلکی کی ،Meteors کی۔اتنا بڑاmeteor سمندر کے بیچ گرا، ایک لائین میں کہ شمال سے جنوب تک ایک طوفان اٹھا ہے سمندر میں اور اس نے لاکھ سال یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو یا کم ہو، بہت لمبا عرصہ تک فضا میں دھند طاری کر دی۔سورج (یعنی سورج کی روشنی ) اس سے ٹکرا کر واپس چلا جاتا، نیچے نہیں اتر سکتا تھا۔نیچے کی گرمی وہاں قید ہو جاتی ہے اور اس طرح فضا بد لی ایسی کہ جن چیزوں پر ڈائناسور پلتا تھا وہ خشک ہو کر مر گئیں اور ساتھ ہی ڈائنا سور بھی مر گیا۔سب جب مر گئے۔یہ آج جو تیل ہم استعمال کرتے ہیں وہ اس ڈائنا سور سے ہے۔تو وہ جانور جن سے آگے خدا نے زندگی چلانی تھی وہ پہلے جنگلوں میں چھپے ہوئے ، دبے ہوئے تھے کہ شکر ہے ڈائناسور گیا ہے یہاں سے۔اور باہر نکل کر دنیا میں پھیلے، بڑھے۔پھر بندر پیدا ہوئے، پھر انسان پیدا ہوا۔ڈائناسور کی یہ کہانی بن مانگے دینے والے کے ساتھ اس تعلق میں ہے۔سورہ فاتحہ کی تشریح اردو کلاس نمبر ۳۰۸، منعقده ۸/اکتوبر ۱۹۹۷ء) اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ میں جو سورہ فاتحہ شروع کرنے سے پہلے ہے، اس رحمن ورحیم کا مطلب زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور قانون قدرت جاری کرنے سے ہے۔اُس اللہ کے نام سے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا اور ایسے قانون بنائے جو اس کا فضل بار بار آئے۔رحیم کا مطلب ہے بار بار رحم کرنے والا۔مثلاً بیجوں کے موسم ہوتے ہیں، بہار، خزاں، گرمی ، سردی، چکر لگاتے رہتے ہیں۔یہ اس کی رحیمیت کا چکر ہے۔زمین میں فضا میں ہر چیز انسانوں کو دی جوان کے کام آئے۔سب قانون بنادئے ، بندہ تھا ہی نہیں مانگنے والا۔رحمن بن مانگے دینے والا۔جو بن مانگے دینے والا ہے وہ حد سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔گویا سب کچھ دے دیا۔اگر کچھ بچا کے رکھتا تو رحمن نہ ہوتا۔اس کا ئنات کو پیدا کرنے کے بعد ، پلین (Billion) سال کے بعد جن چیزوں کی ضرورت پڑنی تھی مثلاً کیمسٹری کا نظام، زمین و آسمان کے چکر موسم کے اثرات بجلی کا نظام، پہلے ہی پیدا کیں۔اللہ سے مانگا تو نہیں خود ہی دے