اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 38
تدريس نماز 38۔۔۔۔۔۔جامع ترندی: ایک صحیح کتاب ہے۔اس میں اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِی۔اس میں وَارْفَعْنِی ہے ہی نہیں۔جس کی مجھے تلاش تھی۔مجھے اس کی تلاش بھی تھی ارو یقین بھی تھا کہ یہ آخر میں ہوگا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا ئی فصیح و بلیغ تھے۔اگر آپ نے کوئی دعا سکھائی ہوتی تو سجدہ میں جانے سے پہلے وَارْفَعُنِی کا ذکر ہوگا۔کیوں کہ سجدہ سے انسان کا رفع ہوتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر یہی فرمایا ہے کہ خدا کا بندہ جب خدا کے حضور عجز سے جھک جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان پر رفع فرماتا ہے۔تو لفظ رفع سجدہ کے تعلق میں ہے۔اس لئے مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میرا جواندازہ تھا وہ آخر ٹھیک نکلا۔اس حدیث کے الفاظ ہیں: اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي اس میں عَافِنِی نہیں ہے۔دوسری ہے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمُنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، اس میں وَاجْبُرْنِی نہیں ہے۔تو ثابت ہوا کہ ان تینوں حدیثوں کے الفاظ کا جو فرق ہے وہ بیچ میں سننے والے راویوں کی یادداشت کا فرق ہے۔شروع سے حدیث صحیح چلی ہے۔لیکن کوئی ایسا رستہ ضرور ہوگا کہ میچ پہنچی ہو۔تو ان دو کتابوں کے الفاظ تو آپس میں نہیں ملتے۔ایک اور کتاب ہے ، اس کے الفاظ بھی نہیں ملتے مگر اس کا مضمون بہت اچھا ہے۔وہ ہے سنن ابن ماجہ۔یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے حوالے ہمارے لٹریچر میں بہت دئے جاتے ہیں۔اس کے الفاظ یہ ہیں: رَبِّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِی۔اے میرے رب مجھے بخش ، مجھ پر رحم فرما، میری اصلاح فرما دے۔وارزقنی مجھے رزق دے، جسمانی وروحانی۔اور آخر پر وَارْفَعْنِی ہے، میرا ارفع فرما۔اس کے بعد اللہ اکبر کہا اور سجدہ میں چلے گئے۔رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِي وجُبُرْنِي وَارْزُقْنِى وَارْفَعُنِي ، يہ وہ حدیث ہے جو میرے دل کو لگتی تھی۔اور مجھے یقین تھا کہ ملے گی ، اور پھر مل گئی۔پس یہ تینوں روایات الگ الگ تھیں مگر میرے ذہن نے جو اندازہ لگایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترتیب سے بات کی ہوگی اور وارفَعُنِی کا ذکر آخر پر فرمایا ہوگا۔یہ بات ابن ماجہ سے نکل آئی۔اس لئے ہماری کتب میں یہ درج ہونی چاہئے۔ہماری کتب میں جو حدیث ہے وہ ان تینوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔اور کسی اور حدیث میں