اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 37

تدريس نماز 37 رکھتے تھے۔ان کا نام تھا مرزا ارشد بیگ۔کسی نے ان کو کہا آپ اتنے اچھے آدمی ہیں، اتنے نیک ہیں اور اتنے لوگوں کی خدمت کرنے والے ہیں، غریبوں پر احسان کرنے والے مسجد میں نماز کے لئے کیوں نہیں جاتے؟ تو ان بیچاروں نے ارادہ کر لیا کہ اب تو میں جاؤں گا۔صبح کی نماز پر گئے ، حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نماز پڑھا رہے تھے۔وہ سجدہ میں گئے اٹھنے کا نام ہی نہ لیا۔انہوں نے کہا السلام علیکم، میں جاتا ہوں اور دوڑے دوڑے نیچے اترے۔ان کی مذاق کی جو عادت تھی انہوں نے کہا کہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے۔رستہ چلتے چلتے کسی نے پوچھا کیا ؟ حکومت کیسے تبدیل ہو گئی ؟ انہوں نے جواباً کہا پہلے مغلوں ( حضرت مصلح موعودؓ ) کی حکومت تھی ، جہاں مغل حکومت کیا کرتے تھے وہاں سیدوں نے کوہلو لگایا ہوا ہے۔(جو مشین پیس کر تیل نکالتی ہے کو ہلو کہلاتی ہے ) یعنی مولوی صاحب تو نماز پڑھنے والوں کا تیل نکال دیتے ہیں۔تو ان باتوں کے ساتھ پرانے زمانوں کے لطیفے بھی مجھے یاد آجاتے ہیں۔تو سجدہ میں تین دفعہ سُبْحَانَ رَبِّي الأعلى، پڑھتے ہیں۔جب اکیلے نماز پڑھیں تو جتنے چاہیں لمبے سجدے کر لیں ، جب کسی کو پڑھائیں تو کو ہلو نہ لگائیں، یہ ضروری پیغام ہے آپ کے لئے۔دو سجدوں کے درمیان کی دعا ارد و کلاس نمبر ۳۲۱، منعقده ۱۲/ نومبر ۱۹۹۷ء) اس میں وَارْفَعْنِی کو پہلے اور وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِی کو آخر پر رکھا ہے حالانکہ بعد میں وَارْزُقْنِی کا اتنا تعلق نہیں جتنا و از معنی کا تعلق ہے۔مگر ہماری کتابیں یہی دیتی ہیں۔پہلے مجھے خیال آیا کہ یہ دعا کی ترتیب درست نہیں لگ رہی اس لئے تحقیق کرنی چاہئے۔یہ بڑا دلچسپ خیال تھا۔اس لئے کہ میرا خیال تھا کہ 'وَار فَعَنِی، آخر پر ہونا چاہئے تھا، اور پہلے نہیں ہونا چاہئے تھا۔اس لئے میں نے تحقیق کروائی اور بوہ کو اس کام پر لگوایا کہ کن کن حدیثوں میں اس دعا کا ذکر ہے۔عجیب بات یہ نکلی کہ ہماری کتابوں میں جو دعا ہے وہ کسی حدیث میں بھی نہیں۔مختلف روایتوں کو جوڑ کر بنانے والوں نے ایک دعا بنالی لیکن حدیث کے الفاظ میں نہ یہ ترتیب ہے نہ یہ سارے الفاظ ہیں۔اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں دعا کو درست کرنا چاہئے۔صحاح ستہ میں تین کتابیں ہیں جن میں تین روایتیں ہیں۔دو کتابوں میں وہی الفاظ ہیں۔ایک کتاب میں ان سے الگ الفاظ ہیں اور وہ بھی صحیح دعا ہے۔اب بتاتا ہوں کہ وہ کتابیں کیا کیا روایتیں بیان کرتی ہیں۔