اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 34
تدريس نماز آتی ہے؟ 34 جب یہ آواز سنتے ہیں کہ سُن لی اللہ نے تو دل سے بے اختیار نکلتا ہے ربَّنَا ، کیسا پیارا رب ہے جس نے ہماری سن لی۔اس کا جواب ہے: رَبَّنَا۔اے ہمارے رب کیسی پیاری بات ہے، ادھر ہم نے حمد کی ادھر تو نے سُن لی۔رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اب ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے لئے اور بھی حمد ہے۔پھر ربنا میں ایسی حمد بیان ہوئی ہے جس میں شکریہ بھی پایا جاتا ہے۔اور دل سے بے اختیار آواز نکلتی ہے۔سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ “۔کہ ابھی ہم نماز میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہہ رہے تھے تو کان میں آواز پڑی سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اس نے سُن لی اُس کی جس نے اُس کی تعریف کی۔فوری جز املی تو اس وقت بے اختیار دل کہتا تھا رَبَّنَا۔اگر صرف رَبَّنَا کہے تو ساری باتیں اسی میں بیان ہو گئیں۔لیکن ربنا کہہ کر بتایا کہ ہمارا رب دیکھو کتنا عظیم ہے۔پھر رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمدُ کہا کہ واقعی تیرے لئے ہی حمد ہے اور کسی کے لئے نہیں۔حَمْداً كَثِيراً طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيه - (اردو کلاس نمبر ۳۱۶ منعقده ۳۱ /اکتوبر ۱۹۹۷ء) (بحواله الفضل انٹر نیشنل لندن ۲ مئی تا ۸ مئی ۲۰۰۳ء) سجده ارکان نماز : ہر حرکت جو ہم کرتے ہیں وہ ایک رکن بن جاتا ہے۔نماز کے سب رکن اس کے ارکان کہلاتے ہیں۔تو میں آپ کو نماز کے ارکان سمجھار ہا تھا۔ہر رکن میں جو دعائیں پڑھتے ہیں وہ اس رکن سے مطابقت رکھتی ہے، اس جیسی ہوتی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّي الاغلی“ کہتے ہیں۔اس کا کیا مطلب ہے؟ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعلى، میں آپ کو کیا پیغام ملتا ہے؟ اس سے پہلے سورہ فاتحہ نے آپ سے ربّ کا تعارف کروایا تھا کہ ربّ کیا ہے؟ تو اس وقت ” آپ کا ربّ“ تو نہیں کہ تھا۔سورۃ فاتحہ نے رَبِّ الْعَالَمِينَ ) یعنی تمام جہانوں کا رب کہا تھا۔جب آپ اس رب کو یاد کریں گے اس سے مدد مانگے گے تو وہ آپ کا ہو جائے گا۔تو یہ پہلا پیغام ہے ربی الاعلیٰ میں کہ میرا رب بہت بلند ہے۔بہت زبردست دعوئی ہے۔سبحان اللہ! میرا رب دیکھو! میرا رب میں دوبارہ عہد بھی ہے کہ