اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 36
تدريس نماز 36 بن گئی۔وہ صرف ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ایک مدد کرنے والی ہستی کی طرف ایک پکار بن گئی ہے۔سُبْحَانَ رَبّی میرا رب تو ہر داغ سے، ہر برائی سے پاک ہے لیکن شکر ہے میرا رب ہے مجھے ٹھیک کرنے والا ہے۔پھر رب کن معنوں میں ہے؟ کس طرح روحانی طور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سوچنے کے موقعے دئے اور نماز نے آپ کو کیا سے کیا بنا دیا؟ یہ سب ربّی کی باتیں ہیں میرے رب نے مجھے بنایا۔اور اس کے بعد آخر پر اعلیٰ کا مضمون ہے ، سب سے اونچا ہے۔لیکن انسان سب سے اونچا کیسے ہوسکتا ہے۔خود تو نہیں ہو سکتا۔سب سے اونچا جو خدا ہے اگر اس کے سامنے اپنا سر زمین پر لگا دیں تو اللہ آپ کو اونچا بنائے گا۔اور یہ کہہ کر کہ میرا رب وہ ہے جو سب سے اونچا ہے امید بندھائی کہ وہ مجھے بھی تو اونچا کرے گا۔ایسی اور اسی طرح کی بہت سی اور باتیں سوچی جاسکتی ہیں۔اگر آپ سوچیں تو سجدہ کتنا لمبا ہو سکتا ہے۔ایک ہی دفعہ پڑھیں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، تو بعض لوگوں کو سجدہ میں نیند بھی آجاتی ہے۔قادیان میں ایک بزرگ صحابی ہوتے تھے جن کا نام حضرت مولوی سرور شاہ صاحب تھا۔بہت چوٹی کے عالم تھے، بہت بزرگ آدمی تھے۔کبھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ، میرے والد مرحوم بیمار ہوتے تو کہہ دیتے کہ مولوی سرور شاہ صاحب نماز پڑھائیں گے۔جب وہ نماز پڑھاتے تھے خصوصاً صبح، سجدہ میں اتنی دیر لگا دیتے تھے تو ہم بچپن میں کوئی اس طرف گرا ہوا ہے، کوئی اُس طرف گرا ہوا ہے، سوسو کے گرتے جاتے تھے اور سجدہ ختم ہی نہیں ہوتا تھا۔کسی نے مولوی صاحب سے شکایت کی کہ مولوی صاحب کتنی دفعہ سُبْحَانَ رَبِّي الاغلى، پڑھتے ہیں؟ سنت تو یہ ہے کہ تین دفعہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلى، کہتے ہیں۔آپ تین سو دفعہ پڑھتے ہیں کہ سجدہ ختم ہی نہیں ہوتا۔وہ کہتے خدا کی قسم تین دفعہ سے زیادہ نہیں پڑھتا، صرف تین دفعہ پڑھتا ہوں۔اس سے اندازہ کریں کہ حضرت مولوی صاحب کا مقام کیا تھا۔سوچ سوچ کے پڑھتے تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جب کوئی امام ہو تو پچھلوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔مولوی صاحب کو یہ بات بھول جاتی تھی کہ پیچھے بھی کوئی نماز پڑھنے والا ہے۔قادیان میں ایک دوست ہوا کرتے تھے جو مذاق کرنے میں مشہور تھے۔ان کی ایک بیماری تھی کہ وہ مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جایا کرتے تھے لیکن اپنے مذاق کی وجہ سے دور دور تک بہت شہرت