اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 13

تدريس نماز 13۔نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْآمُرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ﴾ قیامت کے دن اللہ فرماتا ہے کہ ملِكِ يَوْمِ الدین کے معنی ہیں کہ وہ دن ایسا ہو گا کہ کوئی چیز بھی کسی چیز کی مالک نہیں ہوگی۔اس وقت خدا کی حکومت کامل طور پر ہوگی۔یہ ہے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ - ارد و کلاس نمبر ۳۱۳، منعقده ۲۱ /اکتوبر ۱۹۹۷ء) وَمَا أَدْراكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ - ثُمَّ مَا اَدْراكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴾ (الانفطار: ۱۹،۱۸) یہ اللہ نے کیوں فرمایا کہ تمہیں کیا سمجھا ئیں کہ یوم الدین کیا ہے؟ کیا اللہ کو سمجھانا نہیں آتا۔مثال دی کہ اندھے کو روشنی کا بتاؤ کہ ایسی ہوتی ہے۔وہ نہ سمجھے تو تم کہو گے کہ تم نہیں سمجھ سکتے (جو چیز تمہیں عطا نہیں ہوئی وہ تم سمجھ نہیں سکتے )۔تو یومُ الدِّينِ ﴾ کی تعریف جو ہے اس پر غور کرو تو تمہیں سمجھ آئے گا۔اس پر غور کرو يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ للهِ ﴾ (الانفطار : ۲۰) يَوْمُ الدِّينِ وہ ہو گا جب کہ کوئی جان بھی کسی کی مالک نہیں ہوگی۔یہ انسان سوچ نہیں سکتا جب تک خود اس پر نہ گزرا ہو۔ہماری صفات جو ہم میں ہیں اسی سے تو ہم پہچانے جاتے ہیں۔کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ میرا کچھ بھی باقی نہ رہے۔کیوں کہ سب کچھ خدا کا دیا ہے۔اگر وہ واپس لے لے تو پھر ہر چیز ، ہر جان اُس سے محروم ہو جائے گی جو اس کو زندگی دی گئی، رشتہ دار دئے ، یہ يَومُ الدِّینِ کی تعریف ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قدرہ انہوں نے اللہ کی شان نہیں پہچانی وَ الْاَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ﴾ (الزمر: ٦٨) جبکہ زمین کلیۂ اس کے قبضہ میں ہوگی قیامت کے دن۔والسَّمواتُ مَطْوِيتٌ بِيَمِينِهِ ﴾ (الزمر: ٦٨) آسمان اس کے ہاتھوں میں لیٹے ہوں گے۔﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمواتِ و مَنْ فِى الْأَرْضِ ﴾ (الزمر: ٦٩) صور پھونکا جائے گا اور ہر چیز جو زمین و آسمان میں ہے غش کھا کر جاپڑے گی۔ایسا غش ہو گا کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آئے گی سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے گا اس کو بے ہوش نہیں کرے گا۔پھر دوبارہ بگل بجایا جائے گا تو سارے اٹھ کھڑے ہوں گے۔﴿إِلَّا مَن شَاءَ اللهُ ﴾ (الزمر : ٦٩) سوائے جسے اللہ چاہے گا ، میں کون مراد ہو سکتا ہے؟ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے ساتھ میں نے یہ بات ملائی تھی اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اس دن ساری چیز میں واپس مانگے گا جو اس نے دی تھیں۔رسول اللہ نے سارا کچھ زندگی میں خدا کو دے دیا۔قرآن سے ثابت ہے کہ