اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 23

تدريس نماز : 23 ہوں گے ان سے نہیں مانگ سکے گا۔ہم جب اپنی ملکیت میں سے کوئی چیز کسی کو دیتے ہیں تو پھر واپس مانگنے کا حق نہیں رہتا۔مگر اللہ نے اس شرط کے ساتھ ہر چیز دی ہوئی ہے کہ میری مرضی سے استعمال کرو۔اگر میں واپس مانگوں تو واپس دے دو۔تو کھانا جو کھاتے ہیں اللہ وہ واپس نہیں مانگتا۔اگر کھانا کھانے کی اجازت ہو پھر کھا ئیں تو یہ اس کی مرضی ہے، کھانے کی اجازت نہ ہو پھر کھائیں تو آپ نے اس کی مرضی تو ڑ دی۔(اللہ تعالی کھایا ہوا کھانا واپس نہیں مانگتا۔بلکہ اسلام میں یہ منع ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چیز دو، پھر واپس مانگو تو یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی الٹی کر دے، قے کر دے)۔گو یا اللہ کو مونہہ سے ما لک کہا، دل سے مالک نہیں مانا۔جب ہر چیز آپ کی اللہ کی مرضی کے مطابق ہو جائے تو پھر دل سے اللہ کو مالک مانا۔ان معنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو آیت میں نے پڑھی تھی، اللہ کہتا ہے کہ تو ان چیزوں کا مالک نہیں رہا۔تو نے میری خاطر میرے سپرد کر دی ہیں۔جب اللہ مان بھی گیا اس دنیا میں ہی کہ میں ہی مالک ہوں تو قیامت کے دن اللہ دوبارہ کیسے مانگے گا۔يــوم الـديـن کـے سـلـسـلـه مـیـن حـضور رحمه الله تعالیٰ نے فرمایا: يَوْمُ الدین اس دن کو کہتے ہیں جب کسی کا اپنا کچھ بھی نہ رہے۔سب کچھ اللہ میاں کو واپس کرد۔يَوْمُ الدِّينِ کی کیا تعریف قرآن شریف میں آئی ہے؟ قرآن کریم میں يَوْمُ الدِّينِ کو بیان کیا گیا ہے اور ایک ایک آیت سے میں نے اس مضمون کو لیا تھا اور سمجھایا تھا۔وَمَا أَدْرک مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴾ اے انسان تجھے کیسے سمجھائیں کہ يَوْمُ الدِّينِ کیا چیز ہے تمہیں دوبارہ پھر کیسے سمجھا ئیں۔کوئی طریق بتاؤ کہ تمہیں سمجھ آ جائے۔﴿ يَومَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلهِ۔وہ دن جب کہ کوئی شخص کسی اور کے لئے کچھ بھی اپنے پاس نہیں رکھے گا۔اور کوئی جان اپنے لئے بھی کوئی طاقت نہیں رکھے گی۔ایسا دن چڑھے گا جب کہ آپ کسی کے کام آسکتے ہیں نہ کوئی آپ کی ملکیت میں ہوگا۔نہ آپ کی اپنی جان، نہ اپنا دماغ ، نہ دل ، نہ آپ کی طاقتیں آپ کے قبضہ میں ہوں گی۔﴿ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ﴾ اس دن سب معاملات اللہ کی طرف واپس چلے جائیں گے۔اردو کلاس نمبر ۷۷۰۰۳۱۹ اکتوبر ۱۹۹۷ء)