اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 24

24 تدريس نماز : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا۔کونسا انعام ؟ انعام پانے والوں کا قرآن کریم نے الگ بیان کیا ہے۔کن لوگوں پر انعام ہوا۔نبی ،صدیق ،شہید اور صالح۔ایک لفظ انعمت میں کتنی ساری زمانے کی کہانی بیان ہوئی ہے۔جب سے نبی آنے شروع ہوئے ہیں نبیوں کے ساتھ یہ لوگ پیدا ہوتے آئے۔صدیق ،شہید اور صالح۔نماز میں ہر روز تم لوگ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ » کہہ کر صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ساتھ ساتھ انعامات مانگ لیتے ہو کہ اللہ ہمیں وہ راستہ دکھا جو نبیوں کا راستہ تھا جس پر چل کر صدیق پیدا ہوئے ، جس راستہ پر چل کر شہید پیدا ہوئے، جس راستہ پر چل کر صالح پیدا ہوئے۔صالح اس کو کہتے ہیں جس کا سارا عمل اللہ تعالیٰ کی نظر میں صاف ستھرا ہو۔عمل صالح وہ عمل جو اچھا ہو، بر اعمل نہ ہوا۔جو سب سے کم درجہ ہے وہ بھی اتنا اونچا ہے کہ بہت بڑا لگتا ہے۔اس لئے نماز میں جو مانگنا ہے طے کر لیا کرو جو مانگ رہے ہو۔آپ کہتے ہیں ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے انعام کیا۔جن پر انعام ملتے ہیں۔وہ نہیں جن پر غضب ہوتا ہے۔انعام کس کو کہتے ہیں؟ نبی: نبیوں کو ماریں پڑتی ہیں۔کتنی مصیبتیں پڑتی ہیں۔یہ انعام مانگنا ہے۔اگلا انعام: یہ جو چار رستے مانگتے ہو۔تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اپنے لئے اتنی مصیبت کیوں لے لیتے ہیں۔اور ہے انعام۔وجہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر جو اتنے دکھ تکلیفیں اٹھاتے ہیں وہ اللہ کوسب سے پیارے ہوتے ہیں۔اس لئے نبی بننا کوئی آسان کام نہیں۔سب سے مشکل کام نبوت ہے اور اللہ فیصلہ کرتا ہے کون اس قابل ہے، کون نہیں۔وہ تو عام لوگوں کو سمجھ بھی نہیں آسکتا کہ یہ کیا انعام ہے۔جو نبی اٹھا اس کو مار دیا، جو نبی اٹھا اس کو گالیاں دی گئیں۔رشتہ داروں نے بھی چھوڑ دیا، قوم نے چھوڑ دیا، یہ نبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔تو پہلا انعام یہ ہے کہ ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے انعام کیا۔اور یہ مانگتے ہو۔ڈر جایا کرو تھوڑا سا۔چونکہ بات بہت بڑی مانگی ہے اور ہمت ہے کوئی نہیں۔اسلئے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ