تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 73

علامات المقربين ۷۳ اردو ترجمه وهناك لا يسرق سارق ولا اور وہاں نہ تو کوئی چور چوری کر سکتا ہے اور نہ ہی ان ينهبون۔ومن علاماتهم أنهم قوم سے کوئی چھین سکتا ہے۔ان کی ایک علامت یہ ہے کہ كالمستفشار، المعتصر بایدی یہ لوگ خدائے غفار کے ہاتھوں سے نچوڑے ہوئے الغفار، يتلقون من ربهم من غير شہد کی طرح ہیں اور وہ دوسروں کی وساطت کے بغیر وساطة الأغيار، ويُعطون ما صرف اپنے رب سے تعلیم پاتے ہیں اور جو چاہتے يشتهون۔أو كــالـمشـيـرة التي ہیں وہ انہیں دیا جاتا ہے یا وہ شاخ دار درخت کی طرح يمتشـرهـا الـراعـي بـمـحـجنـه ہوتے ہیں جسے چرواہا اپنے ڈھانگے سے جھکاتا ہے لا كَتَفْرَاتٍ تتساقط من غير نہ درخت کے ان پتوں کی طرح جو چرواہے کے التزام تضمنه وينظرون إلى ربهم كے بغير خود بخود گرتے ہیں اور ان کی نظریں اپنے ربّ پر لگی رہتی ہیں اور وہ حجاب میں نہیں رکھے جاتے۔و من علاماتهم أنهم يسعون ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کو پانے کے ۱۰۶ سعى فى الله ولا زمام و لئے باگ دوڑ کے بغیر (بلا روک ٹوک) پوری کوشش ولا يُحجبون۔لاخزام، وتحتدم نار فی قلوبھم کرتے ہیں۔ان کے دلوں میں (اللہ کی محبت کی ) فيقتدون الضرام، ويكا بدون بها آگ شعلہ زن رہتی ہے اور وہ اس الاؤ کو بھڑکائے الأمور العظام، ويفعلون بقوة رکھتے ہیں۔اور اس (آتش محبت ) سے مشقت میں نارهم أفعالا تخرق العادة پڑ کر بڑے اہم امور انجام دیتے ہیں اور اس آگ کی وتعجب الأنام، وتُحيّر العقول قوت سے ایسے خارق عادت افعال انجام دیتے ہیں جو والأفهام، وترى الحدم في مخلوق کو تعجب میں ڈالتے ہیں اور عقل و فہم حیران رہ جاتی اور أعمالهم ولا كسل ولا الحام ہے اور تو ان کے اعمال میں چستی دیکھے گا نہ کہ سنتی اور فإن غَرَوتَ أيها السامع اڑیل پن۔اے سننے والے ! اگر تو تعجب کرے تو (اس فلست من الذين يُبصرون۔کا مطلب یہ ہوگا کہ ) تو اہل بصیرت میں سے نہیں۔