تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 61

علامات المقربين ۶۱ اردو ترجمه ولايكون وضاحهم إلا إذا وه (مقر بین الہی ) صرف اس وقت مقابلہ کرتے ہیں الحرب عند ربهم حتمت ، ولا جب ان کے رب کے ہاں لڑائی حتمی اور قطعی ہو جائے يجادلون إلَّا إذا الحقيقة التَلَخَتُ، اور وہ صرف اس وقت مجادلہ کرتے ہیں جب حقیقت خلط ملط ہو جائے۔وہ اذنِ الہی کے بغیر کسی ظالم کو ولا يؤذون ظالما بغير الإذن و إن بھی ایذا نہیں پہنچاتے خواہ وہ تندرست جوان بکری يُمَوَّتُوا كشاةٍ عُبِطَتْ، وبأخلاق ذبح کرنے کی طرح مار دیئے جائیں۔وہ اللہ کے الله يتخلّقون۔ومن علاماتهم اخلاق اپناتے ہیں۔ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ أنهم يتقون الكذب والشحناء۔وہ جھوٹ ، عداوت، خواہشات نفس، ریا، گالی گلوچ والأهواء والرياء، والسب اور ایذارسانی سے بچتے ہیں اور وہ اپنے ہاتھ اور والإيذاء ، ولا يُحركون يدًا پاؤں کو صرف اور صرف اللہ کے حکم کے تحت حرکت ولا رجلا إلا بأمر ربهم ولا يجترء ون دیتے ہیں اور اس کے خلاف جرات نہیں کرتے وہ لا يبالون لعنة الدنيا ويتقون دنیا کی لعنت کو اپنی خاطر میں نہیں لاتے اور ہر وہ چیز جو اللہ کے نزدیک باعث فضیحت و رسوائی ہو وہ اس سے پر ہیز کرتے ہیں اور صبح و شام اللہ کی مغفرت ويستغفرونه حين يمسون وحين افتضاحا هو عند ربهم کے طالب ہوتے ہیں اور جب ان پر غفلت کی يُصبحون، وإذا اتســخــوا بغفلة میل چڑھ جائے تو ذکر الہی (کے پانی سے) فبذكره يَبْتَرِدُون۔لباسهم التقوى دھوتے ہیں۔ان کا لباس تقویٰ ہے اور اسی کو وہ سفید فإيّاه يُبيّضون، ويعافون أثوابًا رکھتے ہیں۔وہ بوسیدہ لباس سے گریز کرتے ہیں اور جرودًا وفي التقى يُجَرُ هِدُون تقویٰ میں تیز رو ہیں۔وہ اغیار کی صحبت میں وحشت۔ويتأبـدون مـن صحبة الأغيار ولا محسوس کرتے ہیں۔وہ رب العزت کی بارگاہ پر يبرحون حضرة العزة ولا يُفارقون، دھونی رمائے رہتے ہیں اور اس سے جدا نہیں ہوتے۔