تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 62
علامات المقربين ۶۲ اردو ترجمه و ما شجعهم على ترك الدنيا دنیا اور دنیا والوں کو ترک کرنے پر جو چیز ان کو دلیر وأهلها إلَّا الوجه الذى له کرتی ہے وہ صرف اور صرف اس ذات کی رضا جوئی ہے جس کے لئے وہ ہمیشہ بیدار رہتے ہیں۔يَسُهدُون۔ومن علاماتهم أنهم لا ينطقون ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول بات بآبدةٍ ولا يَهْذَرُون، ويتقون الهزل نہیں کرتے تمسخر سے پر ہیز کرتے ہیں اور ٹھٹھا نہیں کرتے وہ افسردہ زندگی گزارتے ہیں اور اس بات ولا يستهزء ون۔ويزجون عيشتهم محزونين، ويخافون حبط سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی بات اور ان کا کوئی فعل ان کے (نیک) أعمالهم بقول يتفوّهون، أو بفعل اعمال کو ضائع نہ کر دے۔ان کی گفتار صرف مضبوط ( بنیاد پر استوار ہوتی ہے اور وہ لا یعنی گفتگو نہیں يفعلون۔ولا يكون نطقهم إلا كبناء مؤجد ولا يخطلون۔ومن کرتے۔ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ تو انہیں عـلامـاتـهـم أنـك تراهم آجدهم دیکھتا ہے کہ اللہ انہیں ضعف کے بعد قوت اور افلاس الله بعد ضعف وأوجدهم بعد کے بعد تو نگری بخشتا ہے اور وہ لوگ بے یار و مددگار فقر وهم لا يتركون۔ومن نہیں چھوڑے جاتے۔ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ علاماتهم أنهم يرون إدَدًا و اَوَدًا وہ لوگوں کے ہاتھوں سے ہر قسم کی تکلیف اور کجروی من أيدى الناس ويتراءى الياس پاتے ہیں اور ہر طرف سے انہیں مایوسی نظر آتی ہے من كل طرف ثم يُدركهم الله پھر اللہ تعالیٰ انہیں تھام لیتا ہے اور وہ بچائے جاتے ويُعصمون، وإذا نزلت بهم آفة وإذا نزلت بهم آفة ہیں۔جب ان پر کوئی آفت نازل ہوتی ہے تو اللہ کی ۱۰۲) رزقوا من عند الله صبرًا يُعجب جناب سے انہیں ایسا صبر عطا کیا جاتا ہے جوفرشتوں کو الملائكة ثم ينزل الفضل حیران کر دیتا ہے۔پھر فضل نازل ہوتا ہے تو وہ فيُخلصون۔آفات سے ) نجات دیئے جاتے ہیں۔