تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 52

علامات المقربين ۵۲ اردو ترجمه وماتوا لتجديد الولادة، وأرضوا اور ایک نئی پیدائش کے لئے موت قبول کر لی ہے۔ربهم باقتحام الأخطار والصبر انہوں نے قضاء و قدر کے تحت تمام در پیش خطرات میں داخل ہو کر اور ان پر صبر کر کے اپنے رب کو راضی ۹۸) تحت مجارى الأقدار، وأدوا کر لیا ہے۔انہوں نے خلوص اور مخلصین کی تمام كلما يقتضى الخلوص وما هو شرائط کو ان کے تمام تقاضوں کے مطابق ادا کر دیا من شروط المخلصين۔إنهم قوم ہے۔یہ ( مقربین) بلاشبہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ الله كما أخفى ذاته، وذر نے اپنی ذات کی طرح مخفی رکھا ہوا ہے اور اس نے أخفاهم ا عليهم لمعاته، ومع ذالك اپنے انوار ان پر برسائے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ہیئت ، اپنی پیشانیوں اور علامات سے پہچانے جاتے ہیں اور اللہ کا نوران کے چہروں پر چمکتا ہے اور يُعرفون من سمتهم ومن جباههم و من سيماهم، ونور الله يتلألأ ان کے چہروں کی آب و تاب سے نظر آتا ہے۔اور على وجوههم ويُرى من روائهم ان میں ایسی چمک ہوتی ہے جو ہرزہ گو لوگوں کو رسوا کر ولهم بصيص يخزى الخاطلين دیتی ہے۔ان کے دشمنوں کی ایک بد بختی یہ ہے کہ وہ ومن شقوة أعدائهم أنهم يظنون ان ( مقربين) کے متعلق بدظنی کرتے ہیں لیکن اپنی فيهم ظن السوء ولا يحقون ما اس بدظنی کو ثابت نہیں کر سکتے اور وہ متقی نہیں ہوتے۔وہ محض بھینگے ، دھنسی ہوئی آنکھوں والے یا اندھے کی ظنوا وما كانوا متقين۔إن هم إلا طرح ہیں اور بینا لوگوں میں سے نہیں۔ان کی پیشانی كأخوص أو أعْمَى وليسوا من سخت کھردری ہے۔اور نفس مریل اونٹنی کی طرح ہے المبصرين لهم جبهة خشبـاء اور ان کے دل سیاہ ہیں اگر چہ ان کے تہہ بندخر جاء ونفس كعوجاء وقلوبهم مُسودة کی مانند سفید ہوں (خَرُ جَاء: ایسی بکری جس کی ولو ابيض إزارهـم كـخـرجـاء ، صرف پچھلی دونوں ٹانگیں کوکھوں تک سفید ہوتی ہیں )