تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 47

تذكرة الشهادتين ۴۷ اردو ترجمه بما كانوا يحبون الله ويتقونه کیونکہ وہ اللہ سے پیار کرتے ، اُس کا کامل تقوی اختیار حق تقاته و بما كانوا يفرقون کرتے اور اسی سے ڈرتے ہیں یقینا وہ لوگ جو دنیا إنّ الذين تـجـانـاوا على حدّة کے گوشت کے ٹکڑے اور اس کے پانی کی تلچھٹ پر الدنيا وصراها و يئسوا من گرتے ہیں اور اللہ کی عطاء جزیل سے مایوس ہوتے جرح الله اولئك الذين ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ ہم کلام نہیں ہوتا لا يكلمهم الله ويلقون فى فلاةٍ اوروه اور وہ کسی ویران جنگل میں پھینک دیئے جاتے ہیں بديد ويموتون و هم اور وہ اندھے ہونے کی حالت میں ہی مرجاتے ہیں۔عمون۔انهم لا يفتحون العيون وہ آنکھیں نہیں کھولتے باوجود سورج کی روشنی کے جو مع أياة اجباً عليهم ولا هم اُن پر طلوع ہوئی ، اور نہ ہی وہ آنکھوں کو حرکت دیتے يصأصأون كأن الشمس ما ہیں گویا ان پر سورج طلوع ہی نہیں ہوا اور گویا وہ جانتے صمات عليهم وكأنهم ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ وہ لا يعلمون۔وكذالك جرت شخص جو اس کے حضور حصول رضا کے لئے آیا وہ اُس عادة الله لا يستوى عنده من شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جس نے نافرمانی کی اور گمراہ جاء ه يبغى الرضا و من عَصا ہو گیا۔بے شک وہ (اللہ ) غافلوں کی پرواہ نہیں کرتا۔وہ وغواى انه لا يبالى الغافلين۔و إنه اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہے جو اُس کی طرف چل کر آتا يهرول إلى من يمشى اليه وانه ہے۔اور وہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔اس کی ایسی سنت يحب المتقين۔وله سنة لا تخبا ہے جو فی نہیں جیسے سیلاب کے بعد رہ جانے والی جھاگ۔كَخُتْ مخلّف۔الا ان السنة سنو سنو! اُس کی سنت صبح روشن کی طرح ظاہر ہے جو لَيَاحٌ يُرى في كل حين۔الكاذب ہر وقت دیکھی جاسکتی ہے۔جھوٹا تباہ ہو گیا اور سچا سر بلند تب۔و الصادق صعد وثب اور منصب عالی پر متمکن ہو گیا۔پس خوشخبری ہے اُس فطوبي للذي اليه باء و اب کے لئے جو خدا کی طرف لوٹا اور اس کے لئے مشتاق ہوا