تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 44

تذكرة الشهادتين ☆ ۴۴ اردو ترجمه لا يوجد فيهم غشم ولا سخف و ان میں ظلم، ضعف عقل اور تکبر نہیں پایا جا تا اور ہر لاغيهقة وعند کل کرب الی مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو الله يرجعون۔و الذين لا يمغثون کسی کی عزت کو ناحق آلودہ نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے عرضًا بغير حق ولا باحد بد کلامی کرتے ہیں۔وہ کسی دور افتادہ چوٹی اور خشک يهجرون ولا يخافون عقبة نطاء صحراء سے نہ تو خوف کھاتے ہیں اور نہ ہی غمگین ہوتے و لا فلاةً عوراء۔ولاهم يحزنون ہیں۔وہ فطرت کی مخفی استعدادوں کو اجاگر کرنے کے والذين يعلهضون قارورة الفطرة لئے آبگینہ فطرت کو وا کرتے ہیں۔وہ دنیا سے ليستخرجوا ما يخزنون آخرت کے لئے زادِراہ لیتے ہیں۔وہ شاطر زمانہ استوكثوا من الدنيا فلا يبالون اور جابر زمانہ کی پرواہ نہیں کرتے۔وہ خدا کو ہی قریح زمن و جابر زمن و اپنا دست و بازو بناتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے يتخذون الله عضدا و علیه ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باطن سے يتوكلون والذين جاحوا نفسانیت کی جڑوں کو اکھیٹر پھینکا ہے۔اور تو اُن من بواطنهم اصول النفسانية میں مستعدی پائے گا، اور وہ اللہ کی جانب قدم و تجد فيهم شعوذة و الى الله بڑھاتے ہیں۔وہ اللہ کی خوشبو اور اُس کی ذاتی يسارعون مُلئوا من أرج الله و محبت سے پُر ہیں۔وہ سوئے ہوئے بھی ہوں تو محبته الذاتية۔تحسبهم ايقاظا و بھی تو انہیں جاگتا پائے گا۔یہی وہ لوگ ہیں جو هم ينامون۔والذين عُصموا من ظاہری عقت کے دام سے بچائے گئے ہیں اور شصاص العفة الرسمية و صُبّغوا حقیقی تقویٰ کے رنگ میں رنگے گئے ہیں۔محبت بالتقاة الحقيقية و أفنتهم نار المحبّة (البی) کی آگ نے انہیں فنا کر دیا ہے اور وہ ان وليسوا كالذين يضبحون و لوگوں کی طرح نہیں جو ہانپنے لگ جاتے ہیں۔اور الذين ليس مقولهم كَشَفرة أذوذ ان کے اقوال کاٹنے والی تلوار کی طرح نہیں۔حمد سہو کتابت ہے۔غالبا یہ لفظ " قریع ہے۔(ناشر) ۹۶