تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 41

تذكرة الشهادتين ام اردو ترجمه وضَفّروا اشعار التقاة وما اور تقویٰ کے گیسو آراستہ کئے ہیں انہیں پراگندہ شعثوها۔و الذين نوّروا و اثمروا نہیں کیا اور وہ ایک شجرہ طیبہ کی طرح پھولے پھلے كالشجرة الطيبة۔وسارعوا الی ہیں۔جو ایک تیز رو اونٹنی کی طرح اپنے رب کی ربهم كالعيهلة۔و الذين ما فرّطوا طرف بسرعت گئے اور جنہوں نے رحمان کی راہوں و ما أفرطوا في سبل الرّحمان میں افراط و تفریط سے کام نہ لیا۔اور اُس سے ڈرتے وتخشعـوا خوفا منه و جعلواله ہوئے عاجزی اختیار کی اور جنہوں نے اس کی خاطر حلم اللسان وقاية ما في الجنان زبان کی حلیمی کو اپنے محسوسات قلب کی سپر بنایا اور والذين تشمّروا في سبل الله قوی ہمت کے ساتھ اللہ کی راہوں میں ہر دم کمر بستہ رہے۔اور حق پر پورے انسانی قومی کے ساتھ الحق بجميع القوى الانسية و اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے وساوس کی کمر توڑ دی قصموا ظهر وساوس و قصدوا اور آسمانی پانی کے حصول کے لئے بے آب و گیاہ صحرا عوراء للمياه السماوية۔کا رخ کیا۔اور جو اللہ کی راہ میں سستی نہیں دکھاتے بالهمة القويّة۔وتكأكأوا على فلاة والذين لا يتثائبـون فـي اللـه و لا يترددون۔و يمشون في الارض هونا ولا يتبخترون۔والذين ما يقنعون على الحتامة و اور نہ تردد کرتے ہیں۔اور زمین پر نرمی سے چلتے ہیں، اکثر کر نہیں چلتے۔اور جو پس خوردہ پر قناعت نہیں کرتے اور (ہر دم) طالب رہتے ہیں۔وہ دین کی سرزمین میں بڑھتے چلے جاتے ہیں رکتے يطلبون۔ويُقدمون في موطن نہیں اور اُن کے سینے غیظ سے بھڑکتے نہیں، تو اُن الدين ولا يحجمون والذين لا تحتدم صدورهم و تجد فيهم میں ٹھہراؤ پائے گا اور وہ جلد بازی نہیں کرتے اور تؤدة و هم لا يستعجلون وليس ان کی گفتگو بد بودار پانی کی طرح نہیں ہوتی اور نطقهم كـآجـن و اذا نطقوا جب بھی گفتگو کرتے ہیں بڑی متانت سے کرتے يجدون۔و الذين تبتلوا الى الله ہیں۔اور اللہ کی طرف تبتل اختیار کرتے ہیں