تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 37

تذكرة الشهادتين ۳۷ اردو ترجمه لقول ربّ الناس؟ فلو كان معنى النزول هو النزول فی پس اگر نزول سے واقعی اور حقیقی نزول مراد ہوتا نفس الأمر و في الحقيقة، فعلى تو اس بنیاد پر عیسی سچے نہیں ہیں اور اس سے لازم ذالك ليس عيسى صادقا ويلزم منه آتا ہے کہ حق ان یہود کے ساتھ ہے جن کا اللہ أن الحق مع اليهود الذين ذكرهم الله نے لعنت کے ساتھ ذکر فرمایا۔یہ اُن لوگوں کا حال بالعنة۔هذا بال قوم أصروا على نص ہے جنہوں نے کتاب کی نص اور لوگوں کے رب الكتاب والقول الصريح الواضح من کے واضح صریح فرمان پر اصرار کیا، تمہارا نزولِ ربّ الأناس، فما بالكم في عقيدة عیسی کے عقیدہ کے متعلق کیا خیال ہے جبکہ نزول عيسى وليس عندكم إلا أخبار تمہارے پاس صرف ایسی روایات ہیں جو محض ظنية مختلطة بالأدناس ، ومخالفة ظنى میل کچیل سے لتھڑی ہوئیں اور رب الناس کے قول ( قرآن کریم ) کے مخالف ہیں۔مالکم تتبعون اليهود تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم یہودیوں کی پیروی کر وتُشبهون فطرتكم بفطرتهم؟ رہے ہو اور اپنی فطرت کو ان کی فطرت سے مشابہ أتبغون نصيبا من لعنتهم؟ توبوا بنا رہے ہو۔کیا تم ان کی لعنت میں حصہ دار بننا ثم توبوا وإلى الله ارجعوا وعلی چاہتے ہو تو بہ کرو، پھر تو بہ کرو اور اللہ کی جانب ما سبق تندموا، فإنّ الموت رجوع کرو اور جو ہو چکا اس پر ندامت اختیار کرو، قريب، والله حسيب۔أيها الناس کيونکہ موت قریب ہے اور اللہ حساب لینے والا قد أخذكم بلاء عظیم فقوموا فی ہے۔اے لوگو! تمہیں بہت بڑی آزمائش نے آلیا الحجرات، وتضرعوا في حضرة ہے۔پس حجروں میں کھڑے ہو جاؤ اور رب کائنات رب الكائنات، والله رحیم کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرو۔اللہ رحیم کریم ہے۔كريم، وسبق رحمته غضبه اُس شخص کے لئے جو قلب سلیم کے ساتھ آئے اُس لمن جاء بقلب سلیم کی رحمت اُس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔