تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 32

تذكرة الشهادتين ۳۲ اردو ترجمه نازل نہ ہوا۔ولا تصروا على الكذب الصريح اور صریح جھوٹ پر اصرار نہ کرو۔سنت الہی میں کبھی ليس في عادة الله اختلاف اختلاف نہیں ہوا، پس مطلب واضح ہے۔اس فالمعنى واضح ليس فيه خلاف میں کوئی تضاد نہیں۔ظہور آدم سے آج تک کوئی وما نزل من بدو آدم إلى هذا شخص بھی آسمان سے نازل نہیں ہوا اور باوجوداس الزمان أحد من السماء ، وما نزل کے کہ شک اور افترا کے ظن کو دور کرنے کے لئے إلياس مع شدة حاجة نزوله لرفع الیاس کے نزول کی اشد ضرورت تھی لیکن پھر بھی وہ الشك وظن الافتراء۔وإن فرقنا بين هذا النزول اگر ہم اس نزول اور اُس نزول کے درمیان وذالك النزول، وسلكنافی تفریق کریں اور ایک جگہ تو استعارہ کا مسلک اختیار موضع مسلك قبول الاستعارة کریں اور دوسری ( جگہ ) عدم قبول استعارہ کا وفي آخر مسلك عدم القبول، فهذا طريق اختیار کریں تو یہ ایک ایسا ظلم ہے جس پر کوئی ظلم لا يرضى به العقل السليم، عقل سلیم راضی نہیں ہوتی اور نہ ہی معتدل مزاج ولا يُصدقه الطبع المستقیم اس کی تصدیق کرتا ہے۔اور یہ بات اللہ کی طرف وكيف يُنسب إلى الله أنه أضل کس طرح منسوب کی جاسکتی ہے کہ اس نے لوگوں الناس بأفعال شتّى، وأراد في كومختلف افعال سے گمراہ کیا۔اور ایک جگہ ایک مقام أمرًا وفى مقامٍ سُنَةً أخرى؟ طریق اختیار کیا اور دوسری جگہ دوسرا۔اگر تو طالب ففكر إن كنت تطلب الحق وما حق ہے تو اچھی طرح سے غور کر۔اگر تو دشمن ہے أخال أن تتفكر إن كنت من تو میرا خیال ہے کہ تو غور وفکر نہیں کرے گا۔اور العداء ومالك تقدم بين يدى تجھے کیا ( ہو گیا ) ہے کہ تو بغیر کسی علم کے خدا اور الله ورسوله من غیر علم نالك، اس کے رسول کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا أو كان عندك من يقين أجلى ؟ ہے۔یا تیرے پاس کوئی واضح یقین موجود ہے؟