تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 29

تذكرة الشهادتين ۲۹ اردو ترجمه ليـأوى إليها كل طائر يريد ظلها تاہر پرنده جو اُس کا سایہ چاہتا ہے اس پر پناہ لے وثمرتها كالجوعان، ویرید اور ایک بھوکے کی طرح اُس کا پھل چاہتا ہے۔اور ہے۔اور من كل صقر مثیل شیطان صفت شکرے سے امان چاہتا ہے۔کیا وہ الشيطان؟ أيؤمنون بالقرآن؟ كلا قرآن پر ایمان رکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔یہ تو وہ لوگ پر إنهم قوم رضوا بخضرة الدنیا ہیں جو دنیا کی سرسبزی ،شادابی اور چمک دمک پر ونضرتها واللمعان، وصعدوا راضی ہوچکے ہیں اور اس کی طرف تیزی سے بڑھ إليها وغفلوا مما يصيبهم من هذا رہے ہیں اور اس اثر دھے سے جو مصیبت اُن الثعبان۔يجرون ذيل الطرب عند پر آئے گی اُس سے وہ غافل ہیں۔وہ دنیاوی حصول الأماني الدنيوية خواہشات کے حصول کے موقع پر خوشیاں مناتے ويذكرونها بالخیلاء و الکلم ہیں اور اس کا ذکر نخوت اور فخر یہ الفاظ میں کرتے الفخرية ، ولا يتألمون علی ہیں۔مگر زندگی کے چلے جانے اور اُخروی مدارج ذهاب العمر و فوت المدارج سے محروم ہونے پر وہ کوئی درد محسوس نہیں الأخروية، وإن الدنيا ملعونة کرتے۔یقیناً دنیا ملعون ہے اور جو اس میں ہے وہ وملعون ما فيها، وحُلُو ظواهرها بھی ملعون ہے۔اس کا ظاہر شیریں اور اس کا ہے۔اس اوراس وسم خوافيها۔اندرونہ زہر ہے۔فيا حسرة عليهم إنهم يبيعون پس افسوس ان لوگوں پر کہ تازہ کھجوروں کے الرطب بالحطب ، وينسون فى بدلے ایندھن کی لکڑی خریدتے ہیں وہ ان باتوں کو گھروں میں بھول جاتے ہیں جو وہ واعظ بن کر البيوت ما يقرء ون واعظين في اپنے خطبات میں پڑھتے ہیں اور وہ کچھ کہتے ہیں جو الخُطب، ويقولون ما لا يفعلونو کرتے نہیں۔اور جولوگوں کو (تعلیم) دیتے ويؤتون الناس ما لا يمسون | ہیں اُسے خود چھوتے تک نہیں۔اور ایسے راستوں ويهدون إلى سُبل لا يسلكونها، كى طرف راہنمائی کرتے ہیں جن پر خود نہیں چلتے کی