تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 104

علامات المقربين ۱۰۴ اردو ترجمه ولاسياحة في الإسلام ولا شد اور اسلام میں حرمین شریفین کے علاوہ کسی جگہ کی الرحال من غير الحرمين فرزق سیاحت اور اس کے لئے رخت سفر باندھنا فرض لى السيحانُ بهذا الطريق من رب نہیں، لہذا دونوں جہانوں کے رب نے اس طریق الكونين۔ووجدت في سياحتي سے میرے لئے سیاحت کا سامان پیدا فرما دیا اور قومين متضادين۔قوم صمخت میں نے اپنی اس سیاحت کے دوران دو متضاد قومیں پائیں ، ایک قوم تو وہ تھی جن پر سورج چمکا اور عليهم الشمس ولفحت وجوههم اس کی تپتی ہوئی آگ نے ان کے چہرے جھلس دیئے اور وہ ناکام و نامراد لوٹے اور دوسری قوم زمہریر میں ہے اور صاف چشمہ کے مفقود ہونے کی نار أُوارٍ فــرجـعـوا بـخـفـى حنين۔وقوم آخرون في زمهرير وعين حَمِئَةٍ لفقد العين ذالك مثل وجہ سے گدلے چشمہ پر ہے۔یہ ( پہلی ) مثال ان الذين يقولون إنا نحن مسلمون لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم ہی مسلمان ہیں وليس لهم حظ من شمس حالانکہ انہیں آفتاب اسلام سے کچھ بھی حصہ نہیں ملا الإسلام، يحرقون أبدانهم من غير وہ اپنے بدنوں کو فائدہ اٹھانے کی بجائے جلاتے نفع ويلفحون، ومثل الذين ما بقی اور جھلاتے ہیں اور ( دوسری) مثال ان لوگوں کی عندهم من ضوء شمس التوحید ہے جن میں توحید کے سورج کی کوئی روشنی باقی واتخذوا عيسى إلها واستبدلوا نہیں اور انہوں نے عیسی کو مبعود بنا لیا ہے اور زندہ الميت بالذي هو حى، ويظنون (خدا) کی بجائے مردہ کو بدلے میں لیا ہے اور وہ أنهم إليه يتحوّجون۔سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے حاجتمند ہیں۔هذان مثلان لقوم جعلوا سیہ دو مثالیں اس قوم کی ہیں جنہوں نے اپنے آپ أنفسهم كعبادید ما نفعھم کو بہت سے منتشر فرقوں میں تقسیم کر لیا ہے اور سورج ضوء الشمس من غير أن کی روشنی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا سوائے اس کے تلفح وجوههم حرها کہ اس کی تمازت نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا۔