تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 103

علامات المقربين ۱۰۳ اردو ترجمه فی رمــضــــان؟ ألا يـنـظـرون يحسبون وقت نزول المسيح وہ نزول مسیح کے وقت کو اس اونٹنی کی طرح تصور کرتے كنافة مُمُجرٍ ويرون أن الأشراط ہیں جس کا وضع حمل کا وقت گزر چکا ہو اور تا حال وضع ظهرت ثم لا يتيقظون۔أما نہ ہوا ہو، حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ (نزول مسیح) کی قد كسف القمران، وكان الكسف تمام علامات ) ظاہر ہو چکی ہیں پھر بھی وہ نہیں جاگتے۔کیا سورج اور چاند کو گرہن نہیں لگ چکا، جو رمضان کے مہینے میں واقع ہوا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ زمین کے كيف تظهر أثقال الأرض بوجھ ( خزانے ) کس طرح ظاہر ہو رہے ہیں، ریل وتجرى الوابورة وتمخر السفائن گاڑی چل رہی ہے اور جہاز سمندر کا سینہ چیر رہے وتُزَوّج النفوس وتُترك القلاص ہیں اور لوگوں کو اکٹھا کیا جارہا ہے۔اور جوان اونٹنیاں وتُبدّل الظعائن، وظهر چھوڑ دی گئی ہیں اور سواریاں تبدیل ہو چکی ہیں اور جتنے بھی ان کے قیاسات تھے وہ سب ظاہر ہو چکے۔وإن مرهم عيسى آية بينة على مرہم عیسی ، حضرت عیسی کی وفات پر ایک کھلی دلیل موته، فما لهم لا يفكرون في ہے پھر اس دلیل پر وہ کیوں غور نہیں کرتے اور نہ اس هذه الآية ولابه ينتفعون؟ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔مسیح موعود کی مثال ذوالقرنین وإنمـا مثـل الـمسيح الموعود کے مشابہ ہے اور اے آنکھیں رکھنے والو! اسی کی طرف كمثل ذى القرنين، وإليه أشار قرآن نے اشارہ کیا ہے۔اگر تم غور کرتے تو یہ مثال القرآن يا أولى العينين، فكفاكم تمہارے لئے کافی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ میں ذوالقرنین كلّما يأمتون۔هذا المثـل إن كنتم تتأملون۔کی طرح حاذق اور نابغہ روزگار ہوں۔اور لوگوں کو وإني أنا الأَحْوَذِى كَذِى القرنين ، وجمعت لى الأرض كلّها بتزويج میرے لئے تمام زمینی خطوں کے نفوس کو اکٹھا کرنے النفوس، فكمّلتُ أمر سياحتى کے ذریعہ یکجا کر دیا گیا ہے، میں نے اسی جگہ پر وما برحت موضع هاتين القدمين | رہتے ہوئے بھی اپنی سیاحت کا کام مکمل کر لیا ہے