تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 43 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 43

میں مولانا محمد صادق صاحب سماٹری کا نام سر فہرست تھا۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا کرشمہ دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکومت کو اپنا فیصلہ نافذ کرنے کی مہلت تک نہ دی اور اللہ تعالیٰ کے طاقتور دستِ قدرت نے ایک مجاہد فی سبیل اللہ کو کس طرح موت کے منہ سے بچا لیا جب کہ موت کے سائے اس کے سر پر منڈلا رہے تھے اور فیصلہ کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی تھے ! ۳۵ اس تسلسل میں مجھے ایک اور ایمان افروز واقعہ یاد آیا۔میرے والد محترم حضرت مولانا ابو ا ( ) صاحب جالندھری مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک بار ایک احمد نی دوست کے ساتھ ایک تبلیغی پروگرام سے رات کے وقت واپس کہا بیر آرہا تھا کہ جنگل میں سے گزرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ جیسے جھاڑیوں میں کچھ حرکت ہے لیکن یہ سمجھ کر کہ شاید کوئی جانور ہو، زیادہ توجہ نہ دی۔آگے گزر گئے تو تھوڑی دیر بعد دو دھماکوں کی آواز میں سنائی دیں لیکن اسے بھی اتفاقی واقعہ سمجھ کر کچھ توجہ نہ دی گئی۔بظاہر بہت معمولی سا واقعہ تھا جو یاد بھی نہ رہا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو گویا موت کا سفر تھا جو اللہ تعالیٰ کی تائید کے سایہ میں حفاظت سے طے ہو گیا۔کافی عرصہ بعد اس واقعہ کی اصل حقیقت معلوم ہوئی کہ کچھ معاندین احمدیت عرصہ سے مجھے قتل کرنے کی کوشش میں تھے۔اس رات ان میں سے دو نوجوان بندوقوں سے مسلح ہو کر اور پوری تیاری کے ساتھ میری ناک میں جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔میں اور میرا ساتھی باتیں کرتے ہوئے جب ان کے پاس سے گزرے تو پہلے ان میں سے ایک نے مجھ پر بندوق چلائی لیکن نہیں چلی۔پھر دوسرے نوجوان نے بندوق چلانے کی کوشش کی لیکن اسکی بندوق بھی نہ چل سکی۔ہم دونوں ان قاتلانہ کوششوں سے کلیہ بے خبر، اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور حفاظت کے سلیہ