تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 39 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 39

۳۹ تبلیغ کا راستہ بہت ہی صبر آزما اور پر خطر راستہ ہے جس میں قریبی دوست بھی بسا اوقات دشمن بن جاتے ہیں۔لیکن جو داعی الی اللہ اس راستہ پر اخلاص کے ساتھ گامزن ہو جاتے ہیں وہ گویا خدا تعالیٰ کی گود میں آ جاتے ہیں۔زمین و آسمان کا مالک، قادر و توانا خدا، خود ان کا محافظ بن جاتا ہے اور ایک ڈھال بن کر دشمن کے حملوں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔غیر معمولی حالات میں خدا تعالیٰ کا دست قدرت اپنی تائید و نصرت کے کرشمے دکھاتا چلا جاتا ہے۔حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مرحوم آف سکندر آباد نے اشاعت لٹریچر کے ذریعے تبلیغ کی غیر معمولی سعادت پائی۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے حضرت سیٹھ صاحب کی معجزانہ حفاظت کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو بمبئی کے علاقہ میں ایک تبلیغی مہم پر بھجوایا۔خوب سرگرمی سے تبلیغی کام ہونے کے باعث آپ کی شدید مخالفت شروع ہو گئی اور آپ کے ہم قوم لوگوں نے آپ کو قتل کرنے کی سازش کی۔آپ کو کھانے کی ایک دعوت پر مدعو کیا گیا اور مخالفین کا ارادہ یہ تھا کہ کھانے میں زہر ملا کر آپ کو ہلاک کر دیا جائے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی بیگم کے دل میں ڈالا کہ اس دعوت میں شمولیت ٹھیک نہیں۔براہ راست اطلاع دینے کی کوئی صورت ممکن نہ تھی اس لئے انہوں نے دعا کی کہ خدا تعالیٰ ان کے شوہر کے دل کو اس دعوت میں شمولیت کرنے سے پھیر دے۔آپ کی دردمندانہ دعاؤں کے روحانی تار کا یہ اثر ہوا کہ مقلب القلوب خدا نے حضرت سیٹھ صاحب کے دل میں ڈالا کہ وہ اس دعوت میں شامل نہ ہوں۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور دعوت میں شمولیت کئے بغیر شام کو خیریت سے گھر پہنچ گئے۔اس واقعہ کے تین سال بعد سازش کرنے والوں نے خود اعتراف کیا کہ اس روز ہم دعوت کے موقعہ پر ان کو جان سے مار دینا چاہتے تھے لیکن وہ دعوت میں شریک