تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 38
اسی تسلسل میں ممتاز مبلغ اسلام حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشر فاضل کا ایک واقعہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے۔جن دنوں آپ غانا میں تبلیغ اسلام کر رہے تھے ایک نوجوان نے مکہ مکرمہ سے واپس آکر یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ احمدی لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ابھی نہیں ہوا۔اس نوجوان سے ملنے کے لئے آپ صراحہ نامی گاؤں پہنچے جہاں اس کا قیام تھا لیکن وہ براہ راست بات چیت پر راضی نہ ہوا۔مولانا موصوف نے اس گاؤں میں ایک شاندار جلسہ کیا اور علامات ظہور مہدی پر جامع تقریر کی۔آپ تو جلسہ کر کے واپس آگئے لیکن مخالفین نے قریہ بہ قریہ جلوس نکالنے شروع کر دیئے اور اپنی فتح کے روایتی نشان کے طور پر سفید کپڑے سروں پر باندھ کر اور سفید جھنڈے ہاتھوں میں لے کر ان الفاظ میں گانا شروع کر دیا کہ ہماری فتح ہوئی ہے۔مہدی ابھی نہیں آئے کیونکہ زلزلہ نہیں آیا۔مہدی ظاہر ہو گیا ہوتا تو زلزلہ ضرور آتا۔مخالفین کا یہ مطالبہ ایسا تھا جسے کوئی انسان پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ہاں زمین و آسمان کا خالق و مالک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔اسی قادر و توانا خدا نے اپنے بچے امام مہدی علیہ السلام کی تائید و نصرت کے لئے یہ معجزہ دکھایا کہ چند دنوں کے اندر اندر سارے غانا میں شدید زلزلہ آیا اور وہی لوگ جو پہلے یہ کہتے تھے کہ مہدی ابھی نہیں آئے کیونکہ زلزلہ نہیں آیا۔اب بر ملا دو تارے بجا بجا کر اعلان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا مہدی آگیا ہے کیونکہ زلزلہ آگیا ہے۔الله ! اللہ ! کیا شان دلربائی ہے کہ اپنے فرستادہ کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے سرزمین غانا کو ہلا کر رکھ دیا اور اس طرح اپنی قدرت اور جبروت کا زندہ نشان عطا فرمایا جو بہتوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ثابت ہوا۔۳۱