تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 37 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 37

کار کردگی " ملے گا۔بالآخر معاملہ عدالت میں پیش ہوا۔معمولی سی سماعت کے بعد جج نے کہا کہ میں تم کو مجرم قرار دیتا ہوں اور۔۔ابھی فقرہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ عین اسی وقت کمرہ عدالت میں حج کے افسر اعلیٰ کا فون آگیا کہ اس مقدمہ میں فیصلہ مت سناؤ اور کاغذات میرے پاس لاؤ۔افسر اعلیٰ نے سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا کرشمہ دیکھئے کہ حضرت حاجی عبدالکریم صاحب احمدی کو افسر اعلیٰ نے فوری طور پر نہ صرف مقدمہ سے بری کر دیا بلکہ ترقی دے کر مراعات اور تنخواہ میں اضافہ کی ہدایت کی۔دوسری طرف ان کے افسر پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے اس کا الاؤنس بند کر دیا اور عہدہ میں کمی کر کے میدان جنگ میں بھیج دیا۔حضرت حاجی عبدالکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی ترقی کا اور ان کا افسر اپنی تنزلی کا آرڈر لے کر بیک وقت کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو ہر ایک فیصلہ سننے کا مشتاق تھا۔عدالت کا فیصلہ سن کر کسی کو یقین نہ آتا تھا۔اپنی توقعات کے بالکل بر خلاف جب غیر احمدیوں نے عبد الکریم صاحب کی زبانی ان کی ترقی کی بات سنی تو سمجھے کہ حقیقت میں تو انہیں سزا ہوئی ہے لیکن شاید دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔الغرض حاسدوں اور بد خواہوں کی سب تمنائیں خاکستر ہو گئیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص داعی الی اللہ کو اپنی تائید و نصرت کا مزید کرشمہ یہ دکھایا که غیر معمولی حالات میں واقعی ان کو حکومت کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا۔حاجی عبدالکریم صاحب نے بیان کیا کہ جس تمغہ کا میرے غیر احمدی مخالفین طنزاً ذکر کیا کرتے تھے جب وہ تمغہ مجھے ملا تو میں تحدیث نعمت کے طور پر اسے اپنے سینے پر سجا کر، چند روز کی رخصت لے کر اپنے پرانے دفتر گیا اور انہیں تمغہ دکھلا کر کہا کہ دیکھو یہ ہے وہ تمغہ جو میرے قادر خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے! ۳۰ اور اہم اموت کے موقعہ کا رحمت میں شرکت