تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 18
حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اڑ گئیں اور انہوں نے مریضوں کو فوراً وہاں سے چلتا کیا۔۸ کہتے ہیں کہ تیر وہ ہے جو نشانہ پر بیٹھے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ دلیل اور حربہ وہی ہوتا ہے جو موقع پر کام آئے۔جو لوگ تبلیغ کے میدان میں اترنے والے ہیں ان کا بہت وسیع تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تبلیغی گفتگو کے مواقع پر خود راہنمائی فرماتا ہے۔علماء کو بھی وہی سکھاتا ہے اور معمولی پڑھے لکھے ہوئے لوگوں کی بھی وہی راہنمائی کرتا ہے۔مخالفین کے مقابل پر پیش کی جانے والی بات اور دلیل بعض اوقات بہت معمولی اور سادہ پر سی دکھائی دیتی ہے لیکن بہت ہی کارگر اور مسکت ثابت ہوتی ہے۔تاریخ احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی میدان میں داعیان الی اللہ کے برجستہ اور موثر جوابات کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔میرے والد محترم، خلد احمدیت حضرت مولانا ابوالعظاء صاحب جالندھری مرحوم و مغفور اکثر یہ دلچسپ تبلیغی واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ فلسطین میں ایک موقع پر پیلس کے چند استاد تبلیغی گفتگو کے لئے آئے۔احمد یہ دار التبلیغ میں اس وقت آپ کے علاوہ چند احمدی بزرگ بھی موجود تھے۔وفات مسیح کا ذکر ہو رہا تھا۔غیر احمدی عالم نے کہا کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام واقعی فوت ہو چکے ہیں تو پھر ان کی قبر کہاں ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ ان کی قبر سری نگر، کشمیر میں واقع ہے۔کشمیر کا نام سن کر بے اختیار ان میں سے ایک کی زبان سے نکلا کہ اتنی دور ! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابھی میں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا تھا کہ ہمارے مرحوم بھائی علی القرق جو معمولی تعلیم یافتہ تھے انہوں نے جھٹ فرمایا کہ کیا کشمیر آسمان سے