تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 9 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 9

تبلیغ در اصل لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلانے کا نام ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ دراصل خود خدا کا کام ہے اور کچی بات تو یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالی کی تائید و نصرت اور اس کی راہنمائی شامل حال نہ ہو اس میدان میں ہر گز کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔کامیابی نصیب ہوتی ہے تو اس کی اصل اور بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی خود لوگوں کے دلوں میں سچائی کا نقش قائم فرما دیتا ہے۔تائید الہی کا یہ پہلو جو رویا و کشوف اور خوابوں کے ذریعہ راہ حق دکھانے سے متعلق ہے متلاشیان حق کی دستگیری کا ایک قطعی اور یقینی ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس تائید کے مظاہر تاریخ احمدیت میں اس کثرت سے ملتے ہیں کہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو اس برکت سے محروم رہا ہو۔محترم مولانا عبد الرحمن صاحب مبشر مرحوم کی کتب بشارات رحمانیہ حصہ اول و دوم اور کئی اور کتب سلسلہ اس قسم کے ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہیں۔واقعات کے اس سمندر سے میں صرف ایک قطرہ بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔مغربی افریقہ کے سب سے پہلے مبلغ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب تیر رضی اللہ عنہ ایک روز نائیجیریا کے دارالحکومت لیگوس میں غیر احمدیوں کی مرکزی مسجد میں تشریف لے گئے۔یہ ۱۹۲۱ء کی بات ہے۔حاضرین مجلس میں سے ایک نے کہا کہ مسجد کے ایک سابق امام "الفا ایا نمو " نے اپنی وفات سے قبل اپنا یہ خواب ہمیں سنایا تھا کہ انہوں نے ایک بار خواب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زیارت کی اور انہوں نے اسے بتایا کہ وہ خود تو اس ملک میں نہ آسکیں گے مگر ان کا ایک مزید یہاں پہنچ کر مسلمانوں کی ہدایت کا موجب بنے گا۔مسجد میں موجود سب حاضرین نے یک زبان ہو کر اس بات کی تصدیق کی۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر رضی اللہ عنہ جنہیں حضرت مسیح پاک علیہ