تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 10
السلام کے صحابہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہے۔فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کر اور اپنی۔خوش بختی کا تصور کر کے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔اس واقعہ سے اگلے روز مسجد کے دو نمائندے آپ کے پاس آئے اور یہ پیغام لائے کہ ان کی ساری جماعت احمدیت میں داخل ہونا چاہتی ہے۔آپ نے اس فرقہ کے چیف امام اور چالیس نمائندگان کو بلوا بھیجا کہ وہ سب کی طرف سے بطور نمائندہ بیعت کریں۔چنانچہ اس طرح اس فرقہ کے سارے افراد نے جن کی تعداد دس ہزار تھی بیک وقت بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔میدان تبلیغ میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا ایک جلوہ غیر معمولی حالات میں معجزانہ شفایابی سے تعلق رکھتا ہے۔خود داعی الی اللہ بھی اس برکت سے حصہ پاتا ہے اور جب اسلام اور احمدیت کی صداقت کو درمیان میں لاتے ہوئے اس حوالہ سے غیروں کی طرف سے شفا یابی کا مطالبہ یا مومنوں کی طرف سے شفا یابی کی التجا ہو تو اللہ تعالیٰ جو شافی مطلق ہے اظہارِ حق کے لئے شفایابی کا جلوہ دکھاتا ہے اس تعلق میں بے شمار واقعات ہیں جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں۔بطور نمونہ تین واقعات پیش کرتا ہوں۔حضرت ماسٹر عبدالرحمان صاحب مہر سنگھ رضی اللہ عنہ ایک سکھ گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔اللہ تعالی نے آپ کے سینہ کو نور اسلام سے منور فرمایا اور مسیح محمدی کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت سے نوازا۔دن رات اٹھتے بیٹھتے تبلیغ اسلام کرنا آپ کا شعر تھا۔ایک دفعہ آپ اتنے شدید بیمار ہو گئے کہ زندہ بچنے کی کوئی امید نہ رہی۔جب سب حیلے جاتے رہے تو آپ کے دل میں ایک عجیب خیال آیا۔آپ نے اپنے بیوی بچوں کی طرف نظر کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے اللہ ! تو ہر چیز پر قادر ہے مجھے