تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 24
۲۳ لٹریچر بھی مطالعہ کے لئے دیا۔اس سے پہلے بھی کچھ لڑیچر بذریعہ ڈاک بھیجوایا جاچکا تھا۔یہ افریتین دوست تو ابھی تک احمدی نہیں ہوئے لیکن اس عرصہ میں یہ خوشکن خبر ملی ہے کہ اسی جیل میں ایک انگریز عیسائی دوست مسٹر جونز نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کرلی ہے۔اس نواحمدی انگریز نے بتایا کہ انہوں نے اسی افریقن دوست سے جماعت کا لٹریچر لے کر مطالعہ کیا تھا جس سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں دلچسپی پیدا ہوئی اور مختلف احمدی دوستوں سے رابطہ، مزید مطالعہ اور دعا کے بعد اللہ تعالی نے اپنے فضل سے انہیں انشراح صدر عطا فرما دیا۔فالحمد للہ علی احسنہ ۱۶ اس جگہ مجھے اپنے والد محترم حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کا بیان کر وہ ایک ایمان افروز واقعہ یاد آیا۔آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ واقعہ ہمیشہ میرے دل کو تقویت دیتا ہے۔ہوایوں کہ موضع راجو وال متصل قادیان میں غیر احمدیوں سے ایک مناظرہ طے پایا۔یہ عملاً آپ کی زندگی کا پہلا باقاعدہ مناظرہ تھا۔تین گھنٹے تک مناظرہ جاری رہا اور اللہ تعالی کے فضل سے احمد یہ علم کلام کے زور دار دلائل بہت مؤثر رنگ میں پیش کرنے کی توفیق ملی جس کا بہت اچھا اثر سامعین پر نمایاں طور پر دکھائی دے رہا تھا۔شرائط کے مطابق آخری تقریر آپ کی تھی۔آپ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے ہی تھے کہ مخالفین نے تالیاں بجا کر شور مچا دیا۔اس شور و غوغا میں سارا جلسہ درہم برہم کر دیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ گویا احمدی ہار گئے اور غیر احمدی جیت گئے۔زندگی کا پہلا مناظرہ تھا اور باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے پلہ بھاری ہونے کے آپ اپنی فتح کو شکست میں تبدیل ہوتا دیکھ کر بہت دل برداشتہ ہوئے۔ایک قریبی نہر کے کنارے نماز عصر ادا کی اور بہت ہی رقت سے لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کی۔اللہ