تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات

by Other Authors

Page 4 of 65

تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 4

کے ہر مرحلہ پر اور ہر نازک موڑ پر اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپ کو اپنی تائید و نصرت اور حفاظت سے نوازا دہ بھی عدیم المثال ہے۔مکہ کے در یتیم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خدائی لون سے توحید کا علم اٹھایا تو رو سائے مکہ نے اس سے عمومی طور پر روگردانی اختیار کی اور مخالفت پر تل گئے۔خدا تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو ایک لمحہ بھی یکہ و تنہا نہیں رہنے دیا۔فورآ ہی جاننر صحابہ کی ایک مٹھی بھر جماعت عطا فرما دی جنہوں نے ثبات قدم اور فدائیت کی ایک بے مثال تاریخ اپنے نیک نمونہ سے رقم کی۔شعب ابی طالب میں تین سال تک آپ کا محاصرہ جاری رہا۔اس انتہائی صبر آزما امتحان میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی برداشت اور صبر عطا فرما کر اپنی تائید کا ثبوت دیا کہ ابتلاؤں سے استقامت کے ساتھ گزرنا بھی سنت انبیاء ہے۔حضرت ابو طالب کی کفالت ختم ہونے کے بعد حالات نے اور بھی شدت اختیار کرلی۔طائف کا واقعہ بھی تائید الہی کا عجیب منظر پیش کرتا ہے۔اہل طائف کی بد سلوکی سے دل برداشتہ ہو کر جب آپ ایک باغ میں آکر بیٹھے تو سنگ باری سے آنے والے زخموں سے ابھی تک خون رس رہا تھا۔ایسی حالت میں مبلغ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور دلداری کے لئے آسمان سے فرشتوں کا نزول ہوا۔تاریکی کے فرزندوں نے اپنی جہالت سے اس نور مجسم کو رد کیا لیکن خدا تعالیٰ کے لطف و کرم کا سایہ ہمیشہ آپ کے سر پر رہا۔ہجرت مدینہ کا موقعہ آیا تو کس طرح خدا تعالیٰ نے پھر اپنی تائید و نصرت کے جلوے دکھائے۔دشمن کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے بحفاظت گھر سے روانہ ہوئے۔دشمن تعاقب کرتے ہوئے غار کے دروازہ پر پہنچ گئے پھر بھی پکڑنے پر قادر نہ ہو سکے۔انعام کے لالچ میں سراقہ بن مالک نے تعاقب کیا اور بار بار ناکام ہوا اور بالاخر مطبع ہو کر قدموں میں گر پڑا۔مدینہ پہنچ کر اللہ تعالیٰ نے جو عزت اور عظمت عطا فرمائی وہ بھی بے مثال ہے۔جس کو مکہ والوں نے نکلنے پر مجبور کیا مدینہ کے سب قبائل نے