تبلیغِ ہدایت — Page 40
سکتا۔کیونکہ ظاہر ہے کہ نیند والا قبض روح مَا دُمْتُ فِيهِمْ کے مقابل پر نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے زمانہ کے اندر شامل ہوتا ہے مگر یہاں لفظ تو فیتی کو الفاظ مادمت کے مقابل پر رکھا گیا ہے لہذا ثابت ہوا کہ یہاں تو ٹی کے معنے صرف وفات دینے کے ہیں۔جس کے نتیجہ میں حضرت مسیح اپنے متبعین کو ہمیشہ کے لئے داغ جدائی دے گئے غرض توئی کے لفظ پر اڑ نا پرلے درجہ کی ہٹ دھرمی ہے اور پھر تعجب یہ ہے کہ جب یہی لفظ توئی کا کسی اور شخص کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنے وفات دینے کے کئے جاتے ہیں لیکن جو نہی یہ لفظ حضرت مسیح ناصری کے متعلق استعمال ہو تو فوراً اس کے معنے آسمان پر اُٹھا لینے کے ہو جاتے ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے معاملہ میں عیسائیوں کے عقیدہ سے متاثر ہو کر محض اندھی تقلید سے کام لیا جا رہا ہے۔پھر دیکھو یہی الفاظ یعنی كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِي جوی نے استعمال کئے ہیں یا قیامت کے روز استعمال کرینگے یہی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی استعمال فرمائیں گے چنانچہ صحیح بخاری جلد ۳ کتاب التفسیر میں لکھا ہے کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب میں حوض کوثر پر کھڑا ہونگا تو اچانک چند لوگ میرے سامنے آئیں گے جنہیں فرشتے دھکیلے لئے جارہے ہوں گے انہیں دیکھ کر میں پکار اُٹھونگا کہ اصیحابی اصیحابی یعنی یہ تو میرے صحابہ ہیں اس پر مجھے جواب ملے گا کہ انک لا تدرى ما احدثوا بعدك انهم لم يزالوا مرتدين علی اعقابهم یعنی ” آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا رنگ بدلا۔یہ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے اور مرتد گئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اقول كما قال العبد الصالح عیسیٰ ابن مريم كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيد أَمَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی۔۔۔۔۔الخ۔یعنی اس وقت میں وہی کہوں گا جو خدا کے صالح بندے عیسی بن مریم نے کہا کہ میں انہیں دیکھتار ہا جب تک کہ میں ان کے درمیان رہا لیکن جب اے خدا تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر اس کے بعد تو ہی انہیں دیکھنے والا تھا۔اس حدیث سے دو استدلال ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ جس رنگ اور جن معنوں میں اپنی امت کے بگڑ جانے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے اسی طرح ہو 40