تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 215

کے متعلق جس کی صداقت پر تمام علامات نے بحیثیت مجموعی شہادت دی ہے شک و شبہ کو جائز رکھیں۔ظاہر ہے کہ علامات ماثورہ کے مفہوم کلی کے مطابق اپنے آپ کو بنا لینا بندے کے اختیار میں نہیں ہے ہاں بے شک انفرادی طور پر تفاصیل کے متعلق بعض صورتوں میں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ بندہ خودان کے مطابق اپنے حالات کو بنا سکتا ہے۔پس ہم کہتے ہیں اور الحمد للہ پورے انشراح اور اطمینان کے ساتھ کہتے ہیں کہ ایک طرف مسیح موعود اور مہدی معہود کے متعلق جتنی بھی علامات قرآن شریف اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں اُن کا مفہوم کلی یقینی اور قطعی طور پر حضرت مرزا صاحب میں پایا جاتا ہے اور اس بارہ میں دلائل قاطعہ اور براہین نیرہ کے ساتھ آپ کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے اور سوائے اس کے کہ انسان تعصب سے اندھا ہو چکا ہو یا خطر ناک تو ہم پرستی کا شکار ہو کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔اور دوسری طرف علامات کی تفاصیل میں سے بھی بہت بڑا حصہ یعنی قرآنی علامات کا تو سارا حصہ اور حدیث کی بیان کردہ علامات کا اکثر حصہ صاف اور واضح طور پر پورا ہو چکا ہے اور جو حصہ باقی رہتا ہے وہ بھی معقول تاویل کے ساتھ مطابق کیا جا سکتا ہے، تو اس صورت میں یہ کس قدر بدنصیبی ہوگی کہ کسی جزوی تفصیل کو لے کر اُس پر ضد کی جائے اور وہ بینات جنہوں نے حضرت مرزا صاحب کے دعاوی پر ایک سورج چڑھا رکھا ہے رڈی کی طرح پھینک دی جائیں۔ایسے شخص کے متعلق یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ اُس کی نیت بخیر ہے۔اور نہ ایسا شخص دل سے سچائی کا طالب سمجھا جا سکتا ہے۔بلکہ تم یقینا ایسے شخص کو تکبر اور خود پسندی اور خود بینی اور تعصب کا شکار پاؤ گے۔کیونکہ جہاں تو اس کے نفس کے مطابق کوئی بات اُسے ملتی ہے وہ ایک ذرہ کو بھی نہیں چھوڑتا، مگر جہاں اس کی مرضی کے خلاف بات ہو تو وہ دلائل کے ایک پہاڑ کو بھی رڈی کی طرح پھینک دیتا ہے بہیں تفاوت ره از کجاست تا به کجا۔دوسری بات جو یا درکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ یہ ایک سنتِ مستمرہ ہے کہ خدا کے انبیاء اور مرسلین اور مامورین کا ضرور انکار کیا جاتا ہے۔قرآن کھول کر دیکھو، کوئی رسول ایسا نہیں گذرا جسے اس کی قوم نے پہلی آواز پر ہی مان لیا ہو۔بلکہ سب کا انکار ہوا ہے اور سب پر ہنسی اُڑائی گئی ہے اور 215