تبلیغِ ہدایت — Page 201
کتاب اور اُس کے اولیاء کا ذکر کرے گا اور اس کی ہر بات سے خدا اور اُس کے رسول اور اُس کے دین کی محبت ٹپکے گی اور وہ صلحاء کی صحبت کو پسند کرے گا۔پنجم۔مومن خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کو تیار ہوگا۔اپنے خیالات کی۔اپنے دوستوں کی۔اپنے ملک کی۔اپنے عزیز واقارب کی۔اپنے مال و دولت کی۔اپنے آرام و راحت کی۔اپنی تمام محبوب و مرغوب چیزوں کی۔اپنی اولاد کی۔حتی کہ اپنی جان کی۔اور اپنی عزت و آبرو کی بھی۔اور کوئی چیز خدا اور رسول اور دین حق کے رستے میں اسکے لئے روک نہیں ہوگی اور موقعہ آنے پر وہ کسی چیز کے قربان کر دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔یہ وہ پانچ موٹی موٹی باتیں ہیں کہ جب وہ کسی میں پائی جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ اُس کے دل میں ایمان داخل ہو چکا ہے اور وہ حلاوتِ ایمان جس کا احادیث میں ذکر آیا ہے اُسے حاصل ہو چکی ہے۔بشرطیکہ یہ باتیں اُس کے اندر اس عارضی کیفیت کے طور پر نہ پائی جائیں جو کسی وقتی تحریک یا عارضی جوش سے پیدا ہو جاتی ہیں بلکہ مستقل اور محکم طریق پر اس کے اندر موجود ہوں اور ہر حالت میں اس کے دم کے ساتھ رہیں۔اب ہم ان علامات کو الگ الگ لیکر جماعت احمدیہ کی ایمانی حالت کا امتحان کرتے ہیں۔اگر جماعت احمدیہ میں یہ علامتیں دوسروں کے مقابلہ پر ممتاز طور پر پائی جائیں تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ حضرت مرزا صاحب نے واقعی کھوئے ہوئے ایمان کو دنیا میں قائم کر دیا ہے کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ علامات اس زمانے میں مسلمانوں کے تمام فرقوں میں مفقود ہو چکی ہیں۔ایمان کی پہلی علامت پہلی علامت ایمان کی یہ ہے کہ اعمال شریعت کے مطابق ہوں۔سو الحمد للہ کہ احمدیہ جماعت نے مجموعی حیثیت میں یہ علامت ایسے نمایاں طور پر ظاہر کی ہے کہ غیر متعصب دشمن بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔صد با لوگ ایسے ہوں گے جو احمدی ہونے سے پہلے زنا۔شراب۔اکل بالباطل۔رشوت ستانی - قمار بازی۔ظلم تعدی وغیرہ منہیات شرعیہ میں مبتلا تھے۔اور بیسیوں 201