تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 144 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 144

اطلاع دے دی۔اب دیکھو کہ خدائے ذوالجلال کیا فیصلہ کرتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی سے پانچویں سال یعنی ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو عید الاضحی کے دوسرے دن حضرت مرزا صاحب کی دن دگنی رات چوگنی ترقی دیکھتا ہوا کسی نا معلوم ہاتھ سے قتل ہو کر اسلام کی صداقت پر اپنے خون سے مہر ثبت کرتا ہوا اور اپنے ارمانوں کو دل میں لئے ہوئے پنڈت لیکھرام اس جہان سے رخصت ہوا اور با وجود پوری کوشش کے قاتل کا کوئی سراغ نہیں چلا۔نہ معلوم کہ وہ کوئی آدمی تھا کہ جو خفی ہو گیا یا کوئی فرشتہ تھا کہ جو آسمان پر چڑھ گیا۔کیونکہ کہتے ہیں کہ جس وقت پنڈت لیکھرام قتل ہوا اُس وقت اُس کے مکان کی ڈیوڑھی میں کوئی ملاقاتی باہر سے ملنے کے لئے آیا ہوا تھا اور اس ملاقاتی نے کسی شخص کو باہر جاتے نہیں دیکھا۔بلکہ جیساکہ لیکھرام کی بیوی وغیرہ کا بیان سنا گیا ہے لیکھرام کوقتل کر کے قاتل سیڑھیوں کے رستے چھت پر چڑھ گیا تھا اور پھر اس کے بعد اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔غرض عین پیشگوئی کے مطابق لیکھرام قتل ہو کر پیشگوئی کی صداقت پر مہر لگا گیا۔مگر افسوس کہ اس واقعہ سے عبرت پکڑنے اور خدا کے اس چمکتے ہوئے نشان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے آریوں کی آتشِ غیظ و غضب اور بھی بھڑک اُٹھی اور انہوں نے مشہور کرنا شروع کر دیا کہ گویا حضرت مرزا صاحب نے لیکھرام کو قتل کروا دیا ہے۔چنانچہ ان دنوں میں کئی خط آپ کے پاس پہنچے جن میں لیکھرام کے قتل کے بدلے میں آپ کو قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔اس پر آپ نے بذریعہ اشتہار خدا کی قسم کھا کر اپنی بریت کا اظہار کیا اور لکھا کہ :- اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دُور نہیں ہوسکتا اور وہ مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے یہ سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ شخص ( یعنی حضرت مرزا صاحب) سازش قتل میں شریک ہے یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک 144