تبلیغِ ہدایت — Page 139
اس کے بعد پنڈت لیکھرام کا دور دورہ شروع ہوا۔یہ پنڈت صاحب بہت تیز زبان اور نہایت شوخ طبیعت آدمی تھے اور ان کی زبان اور قلم دونوں چھری کی طرح چلتے تھے یہ صاحب حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ کے لئے قادیان بھی آئے مگر صرف چند دن مخالفوں کے پاس ٹھہر کر واپس چلے گئے اور مقامی آریوں کی اشتعال انگیزی سے آگے سے بھی زیادہ تیز ہو گئے اور حضرت مرزا صاحب سے نشان کے طالب ہوئے۔آپ نے اس کے متعلق دُعا کی تو جواب میں جو الہام ہوا اُس پر آپ نے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار شائع کیا جو یہ تھا: - واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا اندر من مراد آبادی اور لیکھر ام پیشاوری کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو اُن کی قضاء و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں سواس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا، لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے۔سو اس کی نسبت جب تو جہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔عِجُلٌ جَسَدٌ لَهُ خُوَارٌ لَهُ نَصَبٌ وَعَذَاب۔یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کومل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھے ماہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء ہے۔چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں کی ہیں۔عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔۔۔۔سواب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی 139